دنیا بھر میں تنقید، یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے امریکی ممکنہ فیصلہ کی

دنیا بھر میں تنقید، یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے امریکی ممکنہ فیصلہ کی

اعلیٰ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بدھ کے روز یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر سکتے ہیں۔ وہ وزارت خارجہ کو حکم دیا جاسکتا ہے کہ وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیں۔اس خبر کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے امریکہ اور امریکی صدر ٹرمپ کی چوطرفہ تنقید کی ہے۔ عرب ممالک کے علاوہ کچھ مغربی ممالک بھی امریکہ کے اس قدم کو خطرناک قرار دے رہے ہیں اور اس کی شدید تنقید کررہے ہیں۔برطانیہ نے ٹرمپ کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم غلط ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یروشلم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حتمی سمجھوتے کا واضح حصہ ہونا چاہئے۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ اس خبر سے انہیں تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے برسلز میں نامہ نگاروں سے کہا دیکھا جائے صدر ڈونالڈ کیا کہتے ہیں، لیکن خبر تشویشناک ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یروشلم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حتمی سمجھوتے کا واضح حصہ ہونا چاہئے۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حوالے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔اردن کے شاہ عبد اللہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو کمزور کرے گا اور مسلمانوں کو اشتعال دلائے گا۔مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ علاقے کی صورتِ حال کو پیچیدہ نہ کریں۔فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے ڈونالڈ ٹرمپ سے کہا کہ انھیں تشویش ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بنیادی ڈھانچے میں ہونا چاہیے۔عرب اتحاد کے سربراہ احمد ابو الغیث نے متنبہ کیا 'یہ ایک خطرناک قدم ہے جس کے بالواسطہ اثرات مرتب ہوں گے۔'جبکہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ 'اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع میں تاخیری تصفیہ سے پہلے ایسا قدم امن کے قیام کے عمل کو بری طرح متاثر کرے گا۔'ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے کی اطلاعات پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ اس معاملے پرسرخ لکیر عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ترک میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران صدر طیب اردگان نے امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا اقدام مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر کی مانند ہے ٹرمپ اس لائن کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں، یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا، کیا امریکا نے تمام کام کرلیے ہیں جو اس کے کرنے کے لیے صرف یہی ایک کام رہ گیا ہے۔