کوئی 4 بیویاں رکھتا ہے تو سپریم کورٹ کو کیا دقت:مسلم پرسنل لا بورڈ

کوئی 4 بیویاں رکھتا ہے تو سپریم کورٹ کو کیا دقت:مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جلد ہی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے والا ہے۔جس میں وہ بتانا چاہتا ہیکہ نکاح،حلالہ اور کثرت ازدواج مسلم لا بورڈ کے اہم حصے ہیں۔اور کورٹ کو اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہئے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے کو بتایاکہ یہ سوال صرف نکاح ،حلالہ اور کثرت ازدواج کے معاملے میں کورٹ کے دخل کا نہیں ہے بلکہ لو۔ان رلیشن شپ کو بھی درست قرار دینے کا مسئلہ ہے۔ولی رحمانی نے کہاکہ ملک میں لو۔ان رلیشن شپ کو قانونی قرار دیاگیا ہے تو آخرتعدد ازدواج جو کہ اب ختم ہو چکا ہے۔اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ابھی تک میں نے چار بیویں والا ایک بھی انسان نہیں دیکھا ہے۔ہندستان کے مسلمانوں میں کثرت ازدواج کا طریقہ ختم ہو چکا ہے۔اس مسئلے کو ڈاکٹر راما چندرن کی قیادت میں سپریم کورٹ میں اٹھانا ہماری ترجیح ہے۔گزشتہ سال سینئر وکیل راماچندرن نے جمیعۃ علماء ہند کی جانب سے تین طلاق کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے بولا تھا کہ ہر پارٹی اپنے نجی لا کو چننے کا آئینی حق ہے۔دائر کی جانے والی عرضی کے بارے میں ذکرکرتے ہوئے رحمانی نے بتایا کہ ہم تین اہم مسئلے اٹھانے والے ہیں۔