پاسوان: ریزرویشن میں دلتوں کو ریزرویشن کے لئے عدالت جائے گی حکومت

پاسوان: ریزرویشن میں دلتوں کو ریزرویشن کے لئے عدالت جائے گی حکومت

مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے بتایاکہ حکومت درج فہرست ذات (دلتوں)کو پرموشن میں ریزرویشن دلانے کےلئے سپریم کورٹ کا رخ کرے گی۔ پاسوان کی یہ کوشش دلتوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھاجارہا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، رام ولاس پاسوان نے دہلی میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پرموشن میں ان طبقات کے لئے ریزرویشن پر روک لگانے والے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں حکومت عرضی داخل کرے گی۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایم ناگراج کیس پر 2006میں دیئے گئے فیصلے پر دوبارہ غور کرکے عرضی پر پانچ ججوں کی بنچ غور کرے گی۔اس معاملے میں سپریم کورٹ نے تب کہاتھا کہ دیگر پسماندہ طبقات (اوبی سی)کے لئے ریزرویشن میں نافذ ہونے والی کریمی لیئرحکمت عملی سرکاری نوکریوں کےلئے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لئے ریزرویشن کے معاملے میں نہیں لگائی جاسکتی۔سپریم کورٹ میں وکیل نریش کوش اور سویش موہن گرو نے جب اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے بڑی بنچ سے اس پر سماعت کرانے کا مطالبہ کیا، تو بنچ نے کہاکہ بنچ تشکیل کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔سپریم کورٹ نے ترقی میں ایس سی / ایس ٹی ملازمتوں کے لئے کوٹے والی تمام درخواستوں کو ایک میںضم کردیاتھا۔ اس میں مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی شامل تھی، جس میں کورٹ نے مدھیہ پردیش پبلک سروس (ایم پی ایس سی ) پروموشن ضابطہ،2002 کو آئین کے لئے خطرناک بتایا تھا۔سپریم کورٹ کی دو ججوں کی بنچ اس تمام معاملات کو ایک ساتھ کرکے چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا تھا تاکہ ان مقدمات پر سماعت کے لئے بڑی بنچ قائم کی جا سکے۔ اس بنچ نے چیف جسٹس کے پاس ان معاملات کو بھیجتے ہوئے سال 1992 کے اندرا ساہنی اور دیگر بنام ہندوستانی حکومت والے کیس اور سال 2005 کے اي وي چنّیا بنام آندھرا پردیش حکومت کے معاملے پر فیصلے کا بھی ذکر کیا۔یہاں پہلے والا فیصلہ منڈل کمیشن اور دوسرا او بی سی ریزرویشن میں 'كریمي لیئر' کی چھٹني سے متعلق فیصلہ تھا۔