شاہ سلمان: فلسطین کی حمایت سعودی عرب کی مستقل پالیسی ، امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی تباہ کن ہوگی

 شاہ سلمان: فلسطین کی حمایت سعودی عرب کی مستقل پالیسی ، امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی تباہ کن ہوگی

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی پر ڈونالڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عالم اسلام کے لیے اشتعال انگیز ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے لئے مسلم اور مختلف عالمی رہنماؤں سے مشاورت کی ہے ۔تاہم انھیں سخت عالمی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ٹیلی فون کیا، ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، اس موقع پر امریکی صدر نے سعودی فرمانروا سے امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کے ممکنہ فیصلے سے متعلق آگاہ کیا۔سعودی فرمانروا نے امریکی صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصی کے تقدس کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور ان مقامات سے مسلمانوں کی وابستگی بہت گہری ہے۔ اس نازک معاملے پر کسی بھی متنازع امریکی فیصلے سے مسلمانوں کےمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے گی، امریکہ کا یہ فیصلہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن عمل کو ناصرف متاثر کرے گا بلکہ خطے میں تناؤ اور کشیدگی میں اضافے کا بھی باعث ہوگا۔شاہ سلمان نے ٹرمپ پر واضح کیا کہ فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کی حمایت سعودی عرب کی مستقل پالیسی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ سعودی عرب کے نزدیک امریکہ کا یہ اقدام ان بین الاقوامی قراردادوں کے خلاف ہوگا جن میں بیت المقدس پر فلسطینی قوم کے حق کی توثیق کی گئی ہے اور اس حق کو کسی طور نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔