اعلیٰ امریکی حکام کا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا عندیہ

اعلیٰ امریکی حکام کا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا عندیہ

امریکہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکطرفہ طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیں گے جبکہ سعودی عرب کے شاہ سمیت دیگر ہنماؤں نے انھیں متنبہ کیا ہے کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں کی جانب سے صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حوالہ سے بیان ایسے وقت کیا گیا ہے جب بدھ کو صدر ٹرمپ کا خطاب متوقع ہے۔اس سے پہلے امریکی صدر نے منگل کو متعدد علاقائی رہنماؤں کو فون کر کے بتایا کہ وہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے یا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے ’دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو سکتا ہے۔‘وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان سارہ سینڈرز کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر صدر ٹرمپ کی سوچ ’بہت مضبوط‘ ہے۔ بیت المقدس کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کی جڑ ہے۔اگر امریکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے تو وہ ریاست کے 1948 میں قیام سے لے کر اب تک ایسا کرنے والا پہلا ملک ہو گا۔دریں اثنا امریکی حکومت کے ملازمین اور ان کے خاندانوں کو یروشلم کے پرانے شہر اور مغربی کنارے میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ذاتی سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ان خبروں کے بعد کہ صدر ٹرمپ بدھ کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر سکتے ہیں، انھیں دنیا کے متعدد ممالک سے رد عمل کا سامنا ہے۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حوالے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا ’ایسے فیصلے کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔‘اردن کے شاہ عبد اللہ نے کہا ’یہ فیصلہ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو کمزور کرے گا اور مسلمانوں کو اشتعال دلائے گا۔‘ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ علاقے کی صورت حال کو پیچیدہ نہ کریں۔‘ فرانسیسی صدر امینوئیل میکروں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ انھیں فکر ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بنیادی ڈھانچے میں ہونا چاہیے۔عرب اتحاد کے سربراہ احمد ابول غیث نے متنبہ کیا 'یہ ایک خطرناک قدم ہے جس کے بالواسطہ اثرات مرتب ہوں گے۔' سعودی عرب نے کہا 'اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع میں تاخیری تصفیہ سے پہلے ایسا قدم امن کے قیام کے عمل کو بری طرح متاثر کرے گا۔