ریکارڈ ٹوٹ گیا  11 مہینوں کا ، اب کی اور بڑھے بے روزگار

ریکارڈ ٹوٹ گیا  11  مہینوں کا ، اب کی اور بڑھے بے روزگار

ملک کے شہروں میں بے روزگاری 11 مہینوں کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے ۔ اس ہفتہ ملک بھر کی بے روزگاری کی شرح 5.8 فیصد ہے جبکہ گزشتہ ہفتہ یہ 5 فیصد تھی۔جبکہ شہروں میں تو یہ 8.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی کہ جو نوجوان کام کرنے کے صلاحیت رکھتے ہیں اور ملازمت کی تلاش میں ہیں ان میں سے 5.8 فیصد نوجوانوں کو اور شہروں میں 8.2 فیصد نوجوانوں کو روزگار میسر نہیں ہو پا رہا ہے۔ شہروں کی یہ بے روزگاری 11 مہینے میں سب سے زیادہ ہے اور صورت حال روز بروز دھماکا خیز ہوتی جا رہی ہے۔اتنا ہی نہیں نوٹ بندی کے بعد تنگ حالی میں گاؤں گئے لوگ بھی اب واپس لوٹنے لگے ہیں کیوں کہ وہاں ان کے پاس روزگار نہیں تھا اور اب جب وہ شہرآ گئے ہیں تو یہاں بھی انہیں کوئی کام نہیں مل پا رہا ہے۔ سی ایم آئی آئی ( سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی ) نے خود ٹوئٹ کر کے ان اعداد و شمار کو منظر عام پر رکھا ہے۔بی ایس ای -سی ایم آئی ای کے جس مشترکہ سروے میں یہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس کے نتائج پریشان کرنے والے ہیں ۔ اس سے قبل ایسے 5 سروے ہو چکے ہیں اور یہ پانچواں سروے تھا۔ پہلا اور دوسرا سروے نوٹ بندی سے قبل جنوری – اپریل 2016  اور مئی -اگست 2016 میں کیا گیا تھا۔ ستمبر- دسمبر 2016 میں جب تیسرا سروے ہو رہا تھا تو بیچ میں نوٹ بندی کا اعلا ن کر دیا گیا ۔ نوٹ بندی کے بعد سے بھی اب تک دو سروے کئے جا چکے ہیں۔ہر سروے کے بعد اس کے نتایج عوامی کئے جاتے ہیں اور انہیں سی ایم آئی ای اور بی ایس ای کی ویب سائٹ پر اپلوڈ بھی کیا جاتا ہے۔ ان سروے نتائج کو عوامی کرنے کے بعد انہیں سی ایم آئی ای اور بی ایس ای کی ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ کیا جاتا ہے۔ سروے کے نتائج سے تصویر صاف ہوتی ہے کے نوٹ بندی کے دوران اور جی ایس ٹی نافذ ہونے سے پہلے تک بے روزگاری کی کیا صورت حال تھی۔ سروے کے اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس وقت کتنی لیبر فورس موجود ہے اور کتنی ملازمتیں مارکیٹ میں ہیں ۔ کتنے لوگوں کے پار روزگار ہے اور کتنے لوگ بے روزگار ہیں۔سروے کا جو طریقہ ہے اس کے مطابق اگر کوئی شخص بے روزگار ہے، کام کرنا چاہتا ہے اور کام تلاش کر رہا ہے تو اسے بے روزگار مانا جاتا ہے لیکن کوئی بے روزگار شخص کام تو کرنا چاہتا ہے لیکن کام کی تلاش نہیں کر رہا تو اسے بے روزگار نہیں کہا جائے گا۔ان اعداد و شمار میں ان لوگوں کو شامل نہیں کیا جاتا ہے جو بے روزگار ہونے کے باوجود سماجی یا دیگر وجوہات کے سبب کام کی تلاش نہیں کر پاتے۔ سروے کے مطابق کام کی تلاش صفر اس طریقہ کو مانا جاتا ہے جس میں کوئی شخص ملازمت کے ایپلی کیشن دے، انٹر ویو دے، لوگوں سے ملے اور قطار میں لگے اسے بے روزگار مان لیا جاتا ہے۔سروے کا طریقہ بتانے کا مقصد ہے کہ ایسے لوگ جو بے روزگار تو ہیں لیکن فعال طور پر کام کی تلاش نہیں کر رہے ان کی تعداد 70 فیصد تک ہے۔ یعنی اگر ان لوگوں کو بھی اس میں جوڑ لیا جائے تو شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ بھلے ہی اس سروے میں شہری بے روزگاری کی شرح 8.2 فیصد آئی ہو لیکن حقیقت میں یہ 15 فیصد ہے۔ سروے میں ملک کے 25 بڑے شہروں کو شامل کیا گیا ہے اور اوسط نکالاگیا ہے لیکن اگر اس میں متوسط اور چھوٹے شہروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو اعداد شمار حیرت ناک ہو سکتے ہیں۔