ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کا  فیصلہ کیا موخر

 ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کا   فیصلہ کیا موخر

صدرامریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے کو التوا میں ڈال دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق اس بابت اب کوئی بھی اعلان فوری طور پر سامنے نہیں آئے گا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ امریکی کانگریس پچھلی صدی کے اواخر میں میں 1995 میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کی منظوری دے چکی ہے۔ اس پر ابتک اگر کوئی عمل نہیں ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اب تک کے تمام امریکی صدور اس فیصلے کو چھ چھ ماہ کے لئے موخر کرتے رہے ۔ ٹرمپ نے بھی بظاہر اسی راستے کو اپنایا ہے۔قبل ازیں فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ یروشلم کو یکطرفہ طور پر اسرائیلی راجدھانی تسلیم کرنے کے منصوبے پر اُنہیں 'تشویش' ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس متنازع شہر کی حیثیت کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ کئی عرب اور دوسرے مسلم ملکوں نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل کی حکومت اور فلسطینی مقتدرہ دونوں ہی راجدھانی بنانے کے تعلق سے یروشلم پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔ بہر حال تازہ صورتحال یہ ہے کہ ٹرمپ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے دستاویزات پرفوری طور پر دستخط نہیں کر پائيں گے۔