این ڈی اے پھر بحران کا شکار ! اتحاد توڑنے کیلئے عدم اعتماد تحریک کی حمایت کرے گی ٹی ڈی پی

این ڈی اے پھر بحران کا شکار ! اتحاد توڑنے کیلئے عدم اعتماد تحریک کی حمایت کرے گی ٹی ڈی پی

آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ نہیں ملنے سے ناراض چل رہی چندر ا بابو نائیڈو کی تیلگو دیشم پارٹی ( ٹی ڈی پی ) جلد ہی بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کو دوسرا جھٹکا دے سکتی ہے ۔ یہ جھٹکا پہلے جھٹکے سے بھی زیادہ بڑا ہوسکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مودی کابینہ سے اپنے دو وزرا کو واپس بلانے کے بعد ٹی ڈی پی اب این ڈی اے سے الگ ہوسکتی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ جمعہ کو ٹی ڈی پی کی کٹر مخالف وائی ایس آر کانگریس پارلیمنٹ میں مودی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے جارہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق تیلگو دیشم پارٹی اس اعتماد کی تحریک کی حمایت کر سکتی ہے ۔ مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے ٹی ڈی پی نے جمعہ کو ایوان کی کارروائی سے پہلے پولٹ بیورو کی میٹنگ طلب کی ہے۔ذرائع کے مطابق تیلگو دیشم پارٹی کا ماننا ہے کہ آندھرا پردیش کے مفادات کیلئے اس کے مطالبات کو حمایت ملنی چاہئے ، لیکن موجودہ وقت میں ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے ۔ اس سے پہلے امراوتی میں پولٹ بیورو کی میٹنگ کے بعد ٹی ڈی پی سپریمو نائیڈو نے عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔در اصل مودی حکومت سے اپنے وزرا کو واپس بلانے کے بعد نائیڈو کے مخالف اور وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ جگن موہن ریڈی نے انہیں این ڈی اے کی حمایت واپس لینے کا چیلنج کیا تھا ۔ ریڈی نے کہا تھا کہ چندرا بابو ایسا کبھی نہیں کر سکتے ، کیونکہ وہ ڈرتے ہیں۔اب وائی ایس آر کانگریس نے پارلیمنٹ میں جمعہ کو این ڈی اے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ٹی ڈی پی اس کی حمایت کرسکتی ہے ۔ جگن موہن ریڈی نے اس سلسلہ میں سبھی اپوزیشن پارٹیوں کو خط لکھ کر عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل ہے اور ایسے میں ٹی ڈی پی کے ذریعہ اس عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کئے جانے یا این ڈی اے سے الگ ہونے سے مرکزی حکومت کو فی الحال کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔