پاکستان گئی بیساکھی منانے سکھ خاتون کا مذہب تبدیل کرواکر دوسری شادی کروانے کا الزم

پاکستان گئی بیساکھی منانے سکھ خاتون کا مذہب تبدیل کرواکر دوسری شادی کروانے کا الزم

ہندوستان کے ایک سکھ کنبہ نے پاکستان میں مبینہ طور پر اپنی بہو کے مذہب کی تبدیلی کرانے اور دوسری شادی کا الزام لگایا ہے ۔ پنجاب کے ہوشیار پور کے رہنے والے کنبہ کا دعوی ہے کہ ان کی بہو کرن بالا بیساکھی منانے کیلئے 13 اپریل کو پاکستان کے ننکانہ صاحب گئی تھی ، جہاں اس کا مذہب تبدیل کروادیا گیااور اس کی دوسری شادی کرادی گئی ۔ کرن بالال کے خسر ترسیم سنگھ نے اپنی بہو کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ہتھے چڑھ جانے کے اندیشہ کا بھی اظہار کیا ہے۔در اصل بیساکھی کے موقع پر 1700 عقیدت مندوں کا ایک جتھہ 12 اپریل کو پاکستان کیلئے روانہ ہوا تھا ، اس میں 32 سال کی کرن بالا بھی تھی ۔16 اپریل کو وہ مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئی ۔ کرن بالا کے شوہر کی 31 سال کی عمر میں سال 2013 میں موت ہوگئی تھی ، اس کے تین بچے ہیں ، وہ چنڈی گڑھ سے 90 کلو میٹر دور سے اپنے ساس سسر کے ساتھ رہتی تھی ، اس کے پاس پاکستان میں 21 اپریل تک رہنے کا ویزا تھا۔پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرن بالا کا 16 اپریل کو لاہور میں مذہب تبدیل کیا گیا اور پھر محمد اعظم کے ساتھ نکاح کرادیا گیا ۔ محمد اعظم لاہور کے ہنجروالا ملتان روڈ کا رہنے والا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نکاح کے بعد کرن بالا نے امینہ بی بی کے نام سے پاکستانی ویزا کی میعاد میں توسیع کیلئے درخواست دی ہے۔کرن بالا عرف امینہ بی بی کے بچے فی الحال اپنے داد دادی کے پاس رہ رہے ہیں ۔ کرن بالا کےخسر ترسیم سنگھ نے کہا کہ 12 اپریل کو میں نے اپنی بہو کو امرتسر میں ایس جی پی سی گرودوارہ کمیٹی کے اہلکاروں کے سامنے چھوڑا تھا ، جہاں سے وہ جتھہ کے ساتھ پاکستان جانے والی تھی ۔ ایس جی پی سی نے اس کے تحفظ کی ذمہ داری لی تھی ۔ یہ جتھہ 21 اپریل کو ہندوستان واپس لوٹنےو الا ہے۔ترسیم سنگھ کے مطابق جو ہوا اس پر مجھے یقین نہیں آرہا ہے ۔ میڈیا میں بہو کی خبر آنے کے بعد ایس جی پی سی میں سے کسی نے اب تک ہم سے رابطہ نہیں کیا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ میری بہو جلد سے جلد بحفاظت وطن واپس آجائے۔