شیوراج سنگھ کا “ماسٹراسٹروک ” پڑگیا الٹا ، نوجوانوں نے شروع کی مخالفت

شیوراج سنگھ کا “ماسٹراسٹروک ” پڑگیا الٹا ، نوجوانوں نے شروع کی مخالفت

مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات سے 7 مہینہ پہلے ہی ماسٹراسٹروک مانے جارہے شیوراج سنگھ چوہان کے اس فیصلہ کی مخالفت شروع ہوگئی ہے، جس میں وزیر اعلی نے سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ۔ حکومت کے اس فیصلہ کی بے روزگار سینا نے مخالفت کی ہے۔ بے روزگار سینا کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں نوجوان بے روزگار گھوم رہے ہیں اور وزیر اعلی انتخابی فائدے کیلئے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کررہے ہیں۔بے روزگار سینا کے کنوینر اکشے ہنکا کا کہنا ہے کہ جس ریاست میں 23.90 لاکھ رجسٹرڈ بے روزگار ہوں ، 75 لاکھ بے روزگار گھوم رہے ہوں ، وہاں اس طرح کا فیصلہ سیاست پر مبنی فیصلہ لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف بے روزگار سینا ریاست بھر میں آندولن چلائے گی۔اس معاملہ میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کا کہنا ہے کہ میرے دل میں بھی درد ہے کہ سپریم کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہونے کی وجہ سے ترقی رکی ہوئی ہے اور ہمارے کئی دوست پرموشن کے بغیر ہی ریٹائر ہورہے ہیں ۔ پرموشن کے بغیر ملازمین ریٹائر نہ ہوں ، اس لئے ملازمین کے ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد 60 سے بڑھا کر 62 کرنے کا ہم نے فیصلہ کیا ہے۔غور طلب ہے کہ شیوراج حکومت انتخابی سال میں ملازمین کو سوغاتیں دینے میں کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ ٹیچروں اور پنچایت سکریٹریوں کے بعد اب سرکاری افسران اور ملازمین کے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھاکر 62 سال کرنے جارہی ہے۔