مرکزی وزیر شیخاوت کا نام مدھیہ پردیش بی جے پی صدر کے لئے سب سے آگے

مرکزی وزیر شیخاوت کا نام مدھیہ پردیش بی جے پی صدر کے لئے سب سے آگے

راجستھان میں اشوک پرنامی کے بی جے پی  ریاستی صدر کے عہدہ سے استعفی دینے کے بعداب  پارٹی کی کمان سونپنے کے لئے نئے صدر کی تلاش جاری ہے۔ نئے صدر کے ناموں کی فہرست میں آرایس ایس کے بے حدقریبی اورمرکزی وزیر برائے زراعت ممبرپارلیمنٹ گجیندر سنگھ شیخاوت سب سے آگے چل  رہے ہیں۔حالانکہ  شیخاوت کا نام ابھی تک سرکاری طور پر مہر نہیں لگی ہے،لیکن ا ن کی تاج پوشی تقریباً طےسمجھی جارہی ہے۔ اگر شیخاوت صدر بتے ہیں تو وہ شیخاوٹی کے چوتھے لیڈر ہوں گے، جو پارٹی کی کمان سنبھالیں گے۔ گرچہ شیخاوت  جودھپور میں رہتے ہیں، لیکن ان کی جنم بھومی شیخاوٹی ہی ہے۔ شیخاوت شیخاوٹی کے سب سے بڑے ضلع سیکر کے مہرولی گائوں کے ہیں۔شیخاوت سے پہلے شیخاوٹی کے کئی لیڈر بی جے پی اور یہاں تک کہ سنگھ کی کمان سنبھال چکے ہیں۔ جن سنگھ کے زمانے میں بھی دو بار ریاست کی کمان شیخاوٹی کے لیڈر سنبھال چکے ہیں، ان میں سیکر ضلع کے دانتا رام گڑھ کے مدن سنگھ دانتا اور سیکر کے ہی جگدیش ماتھر کے ہاتھوں میں جن سنگھ کی ریاست کی باگ ڈور رہ چکی ہے۔ جن سنگھ کے بعد جب بی جے پی کی تشکیل ہوئی تب بھی پہلی بار پردیش کی کمان بھی جگدیش ماتھر کے ہی ہاتھ رہی ہے۔ وہ پارٹی کے پہلے ریاستی صدر 81-1980میں بنے۔ان کے بعد پھر پارٹی کی کمان شیخاوٹی کو اپنا سیاسی زمین بنانے والے ہری شنکر بھابھڑا کے ہاتھوں میں آئی۔ بھابھڑا نے 1981سے 1986تک پارٹی کی کمان سنبھالی۔ بھابھڑا مولت ناگور ضلع کے ڈیڈوانا کے ہیں،لیکن ان کی سیاسی زمین چورو کی رتن گڑھ اسمبلی حلقہ رہی ہے۔ اس کے بعد طویل وقفے کے بعد ایک بار پھر 2006میں پارٹی کی کمان سنگھ  کے چورو کے ڈاکٹر مہیش چندر شرما کے ہاتھوں سونپی گئی۔ شرما 2008 تک پارٹی کے پردیش صدر رہے، اب اس کے بعد پارٹی کی نظر اب ایک اور شیخاوتی میں پیدا ہوئے گجیندر سنگھ شیخاوت پر ہے۔