آسام میں تقریبا 48 لاکھ شادی شدہ خواتین کو اپنی شہریت کو لے کر ملی بڑی راحت

آسام میں تقریبا 48 لاکھ شادی شدہ خواتین کو اپنی شہریت کو لے کر ملی بڑی راحت

سپریم کورٹ نے آسام کے لاکھوں افراد کی شہریت سے متعلق ایک انتہائی اہم کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے پنچایت لنک سرٹیفیکٹ کی حیثیت کو بحال کردیا ہے جس کے بعد تقریبا48 لاکھ شادی شدہ خواتین کو اپنی شہریت پر لٹکی تلوارسے راحت ملی ہے۔ مزید برآں عدالت نے شہریت کے سلسلے میں سرکار کے دوہرے رویے کو بھی خارج کردیا ہے اور سرکار سے کہا کہ اصلی اور غیر اصلی شہری میں لوگوں کو نہ بانٹے۔ شہریت کے لیے صرف ایک کٹیگری ہو گی :’ وہ بھارت کی شہریت ہے‘ ۔ اس لیے صرف ثبوت کی بنیاد پر بات کی جائے ۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس نریمن پر مشتمل عدالت عظمی کی دو رکنی بنچ نے  28 فروری 2017 کوگوہاٹی ہائی کورٹ کے ذریعہ دیے گئے اس فیصلے کو رد کر دیا جس میں این آر سی میں اندراج کے لیے پنچایت سر ٹیفیکٹ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا تھا۔اس فیصلے کو جمعیتہ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی اور جمعیتہ علماء صوبہ آسام کے صدر ورکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے انصاف کی جیت اور تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے لاکھوں لوگوں کی شہریت کے تحفظ کا ضامن قرار دیا ہے۔ ان دونوں حضرات نے انصاف کی اس لڑائی میں شریک تمام حضرات نیز اس کے لیے دعا ؤں کا اہتمام کر نے والوں کا شکریہ ادا کیا۔   آسا م میں ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ان لوگوں کو شدید دشواری ہو گئی تھی جو پنچایت سرٹیفیکٹ کو معاون دستاویز کے طور پر صرف اس بات کو ثابت کر نے کے لئے جمع کررہے تھے کہ وہ فلاں کی بیٹی یا بیٹا ہے اور شادی یا کسی اور وجہ سے فلاں گاؤں سے فلاں گاؤں منتقل ہوکر رہائش پذیر ہوگئے ہیں۔ معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود اسعد مدنی اور جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل کی ہدایت پر جمعیۃ علماء صوبہ آسام نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اسی سال مارچ میں سپریم کورٹ میں دو متاثرین کی جانب سے پٹیشن داخل کیا تھا جس پر سماعت 22 نومبر کو مکمل ہو گئی تھی،آج اسی کا فیصلہ آیا ہے  اس درمیان اصلی اور غیر اصلی شہریت کا معاملہ بھی سامنے آیا جو انتہائی تفریق کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ این آرسی کے کو آرڈینیٹر مسٹر پرتیک ہزیلا نے 12 اکتوبر 2017 کو اپنے ایک حلف نامہ میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ پنچایت سرٹیفیکٹ کے رد ہونے سے متاثر ہو نے والے 48 لاکھ لوگوں میں سے تقریبا 17 لاکھ اصلی شہری ہیں اور باقی کی شہریت کی تحقیق و تصدیق کا کام جاری ہے۔ اس اصلی اور غیر اصلی کی تقسیم کے پیچھے کی سازش کو سمجھتے ہوئے جمعیہ علما ء ہند کے سکریٹری مولانا محمود مدنی اور جمعیہ علماء صوبہ آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل کی ہدایت پر اس کے تقسیم کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کر کے اس کی وضاحت اور اس تقسیم کی بنیاد اور تعریف کرنے کی مانگ کی گئی۔ سپریم کورٹ میں آسام سرکار اور مرکزی سرکار کے وکلاء اس کی جامع تعریف کرنے اور تشفی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ جمعیۃ علماء  ہند نے ا ن مقدمات کی پیروی کر نے کے لئے سینئر وکلاء کی ایک ٹیم کی خدمات حاصل کی تھی جن میں سینئر ایڈووکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی، سینئرایڈووکیٹ راجو راما چندرن،سینئر اڈووکیٹ بی ایچ مار لاپلے،سینئر اڈووکیٹ اعجاز مقبول،سینئر ایڈووکیٹ شکیل احمد، سینئر ایڈووکیٹ نذرالحق مزار بھیا،ایڈوکیٹ عبدالصبور تپادار، ایڈووکیٹ قاسم تعلق دار، ایڈووکیٹ امن ودود وغیرہ شامل تھے۔