سپریم کورٹ: آدھار کا ڈیٹا لیک ہونے سے انتخابات کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں

سپریم کورٹ: آدھار کا ڈیٹا لیک ہونے سے انتخابات کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں

سپریم کورٹ نے ' آدھار' کے تحت درج معلومات کے محفوظ ہونے پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کل کہا کہ آدھار کا ڈیٹا لیک ہونے سے انتخابات کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے ملک میں معلومات کی حفاظت کا قانون نہ ہونے پر سوال اٹھایا۔ بنچ نے کہا کہ جب ملک میں ڈیٹا کی حفاظت کا قانون نہیں ہے تو ایسے میں یہ کہنا کہ لوگوں کا ڈیٹا محفوظ ہے، کہاں تک مناسب ہے؟عدالت عظمی نے سماعت کے دوران آدھار کے ڈیٹا کا انتخابات میں استعمال کئے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ آئینی بنچ کے ایک رکن جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ یہ حقیقی خدشہ ہے کہ دستیاب اعداد و شمار کسی ملک کے انتخابات کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے، تو کیا جمہوریت بچ پائے گی؟ انڈین یونیک آئڈنٹیٹی اتھارٹی (یو آئی اے ڈی آئی) کے وکیل نے دلیل دی کہ ٹیکنالوجی کی ترقی ہو رہی ہے اور ہندوستان کے پاس تکنیکی ترقی کی اپنی حدود ہیں۔ اس پر جسٹس چندرچوڑنے کہا کہ 'علم کے محدود ہونے کی وجہ سے ہم حقیقت سے آنکھ موند کرنہیں رہ سکتے، کیونکہ ہم ایسے قانون کو لاگو کرنے جا رہے ہیں جو مستقبل کو متاثر کرے گا'۔يو آئی ڈی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آدھار کے تحت ڈیٹا کی وصولی کوئی ایٹم بم نہیں ہے۔