فلسطین میں حماس اور فتح کے بیچ سیاسی مفاہمت ہو گئی

 فلسطین میں حماس اور فتح کے بیچ سیاسی مفاہمت ہو گئی

دو اہم فلسطینی سیاسی مخالفین حماس اور فتح کے درمیان سیاسی مفاہمت کا معاہدہ طے پا گیا ۔ مصر ی دارالحکومت قاہرہ میں اسی ہفتے منگل کے دن ان دونوں مخالف فلسطینی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ واضح رہے کہ حماس اور فتح دونوں 2014 میں بھی انتظامی سطح پر قومی مفاہمت پر متفق ہوگئے تھے لیکن تفصیلات پر دونوں میں اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔کہا جاتا ہے کہ حماس کو دباؤ میں لانے کے لیے صدر فلسطین محمود عباس نے اسرائیل کو بجلی کے واجبات کی ادائیگی روک دی تھی جس کے بعد روزانہ چار سے چھ گھنٹے بجلی کی بندش ہوتی تھی۔ حماس کے اسماعیل ہنیہ کے حوالے سے یہ اطلاع دی گئی ہے کہ فتح اور حماس کے درمیان مصر ی تائید و حمایت سے مذاکرات کے دوران ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔جس کا مقصد دونوں تنظیموں میں 10 سالہ سیاسی کشیدگی کو ختم کرنا تھا۔فتح نے 2007 میں حماس سے لڑائی کے بعد غزہ پر اپنا کنٹرول کھو دیا تھا۔ ابھی پچھلے مہینے حماس نے صدر محمود عباس کو غزہ کی حکومت سنبھالنے کی پیش کش کی تھی ۔مذاکرات میں شامل ایک پارٹی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس معاہدے کو مقبوضہ فلسطین کے غرب اردن علاقے غزہ پر لاگو کیا جائے گا جہاں فتح کی اکثریت ہے اور یہ رفاہ کے قریب کا علاقہ ہے جو غزہ اور مصر کے درمیان سرحد پر قائم ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ فلسطین کی تمام تنظیمیں آئندہ دو ہفتوں کے دوران ایک قومی اتحادی حکومت بنانے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرسکتی ہیں۔