روی شنکر پرساد: راہل ہندو دہشت گردی کو لشکر طیبہ سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں

روی شنکر پرساد: راہل ہندو دہشت گردی کو لشکر طیبہ سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں

مرکزی وزیر قانون اور سینئر بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی ’ہندو یا بھگوا دہشت گردی‘ کو لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیم سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ پرساد کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی گجرات میں انتخابی تشہیر کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس اور گاندھی پر لشکر سرغنہ حافظ سعید کی پاکستانی عدالت کی طرف سے رہائی پر ’تالی بجانے ‘ کا الزام لگایا تھا۔مسٹر پرساد نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ 26/11کے ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے بعد اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن ہندستان آئی تھیں۔ اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ  نے انہیں کھانے کی دعوت دی تھی۔ اس میں راہل بھی موجود تھے۔ ان کے نزدیک ہی امریکی سفیر ٹموتی رومر بیٹھے ہوئے تھے اور دونوں نے کئی امور پر بات چیت کی تھی۔ انہوں نے راہل سے پوچھا تھا کہ لشکر طیبہ کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے ۔ راہل نے کہا کہ یہ تو ہے پر ہندستان کی ہندو دہشت گردی اس سے زیادہ خطرناک ہے۔پرساد نے کہا کہ ٹموتھی نے یہ بات لکھ کر امریکہ بھیجی تھی جس کا انکشاف وکی لیکس معاملہ کے دوران ہوا۔ اسے لندن کے مشہور اخبار دی گارجین نے بھی شائع کیا تھا اور بعد میں ہندستان کے اخبارات میں بھی یہ بات شائع ہوئی ۔ گاندھی کو اس بات کا جواب دینا چاہئے انہوں نے ایسا کیوں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راہل نے مودی کو فرقہ وارانہ پولرا ئزیشن کرنے والا شخص بتایا جو ایک شرمناک بات ہے۔ پرساد نے کانگریس نائب صدر کے گجرات میں مندروں کے دوروں پر چٹکی لی۔ انہیں جولائی 2009میں مصر کے شرم الشیخ میں اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ اور ان کے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی کے مشترکہ بیان کی بھی یاد دلائی جس میں بلوچستان میں ہندستان کے حق کو نقصان پہنچانے والی بات کا ذکر تھا۔