راگھو چڈھا نے وزارت داخلہ کو بھیجا2.5روپئے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ

راگھو چڈھا نے وزارت داخلہ کو بھیجا2.5روپئے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ

عام آدمی پارٹی کی حکومت میں مقرر کئے گئے 9مشیروں کو برخاست کئے جانے کے بعد عام آدمی پارٹی کے لیڈران نے پہلے تو بیان بازی کی، لیکن اب انہوں نے مخالفت کا نیا طریقہ اختیار کیاہے۔ دراصل 'آپ' کے ترجمان راگھو چڈھا نے بدھ کو 2.50روپئے کا ایک ڈیمانڈ ڈرافٹ وزارت داخلہ کو بھیجا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیرداخلہ راجنا تھ سنگھ کو ایک خط بھی بھیجا ہے۔چڈھا نے بتایا کہ جس عہدے سے ان کو ہٹایا گیا، اس پر انہیں صرف 2.50روپئے ملے تھے۔ انہوں نے کہاکہ میں مشیر کے عہدے پر 75دن رہا تھا۔ میں ماہانہ ایک روپئے کی تنخواہ لیتا تھا، ایسے میں میری کل تنکواہ 2.50روپئے ہوئی، جسے میں لوٹا رہا ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ جب میں عہدہ چھوڑ چکا تھا تو ایسے میں یہ برخاستگی کیوں؟وزارت داخلہ کے مشورے پر ڈپارٹمنٹ آف جنرل ایڈمنسٹریشن (جی اے ڈی) نے کجریوال حکومت کے 9مشیروں کو ہٹانے کا فیصلہ لیا تھا۔ جی اے ڈی نے بتایا کہ قومی دارالحکومت علاقہ کے سروس (کسی نئے عہدے کی تشکیل یا تقرری) سے متعلق فیصلے مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں لئے جاسکتے ۔ اپنے بچاو میں راگھو چڈھا نے ٹوئٹر پر اپنا تقرری خط اور اس میں انہیں ملنے والی تنخواہ کی تفصیل بھی شیئر کی ہے۔جی اے ڈی کے فیصلے کے فوراً بعد چڈھا نے مرکز پر الزام لگایا کہ مودی حکومت انائو کٹھوعہ اجتماعی عصمت دری معاملے اور ملک میں  کیش کی پریشانیوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے ایسا کررہی ہے۔مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر بھی عام آدمی پارٹی اپنی پرانی راہ ہی اختیار کررہی ہے اور تمام قصور مرکز کے سر پر ڈال رہی ہے، وہ کب تک ایسے کرکے بچتے رہیں گے، یہ سوچنے والی بات ہے۔ کیونکہ مشیروں کی تقرری کا عمل درست نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ تمام 9مشیروں کو اپنا عہدہ گنوانا پڑا اورکجریوال کی ایک بار پھر جگ ہنسائی  ہوئی۔ ایسا تب ہوا جب وزارت داخلہ کی جانب سے پہلے ہی  اس بات کی اطلاع کجریوال حکومت کی دے دی گئی تھی۔ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب بات صرف 2.50روپئے کی ہے تو راگھوچڈھا وزارت داخلہ کو ڈیمانڈ ڈرافٹ بھیج کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ان کی نظر میں ایک مشیر کی قیمت صرف 2.50روپئے ہے۔ چڈھا کی اس حرکت سے عام آدمی پارٹی کی اس سوچ کا پتہ چلتا ہے، جو صرف الزام تراشی کی سیاست کرنے کے لئے ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پارٹی اور اس کے لیڈران ایک کے بعد ایک غلطیاں نہیں کرتے بلکہ غلطیوں کا اعتراف کرکے دہلی کی بھلائی کے لئے کام کرتے۔