پروین توگڑیا کی بھوک ہڑتال ختم ، پھر گرمایا رام مندر کا معاملہ

پروین توگڑیا کی بھوک ہڑتال ختم ، پھر گرمایا رام مندر کا معاملہ

تین دنوں کے بعد پروین توگڑیا نے کل دوپہر کے بعد سادھو سنتوں اور خراب طبیعت کی وجہ سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے ۔ لیکن توگڑیا کے انشن کے بعد ایک بار پھر سے رام مندر کا مسئلہ موضوع بحث بن گیا ہے۔ توگڑیا نے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا بعد مرکز کی بی جے پی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا تھا کہ مودی حکومت نے ہندوؤں کو دھوکہ دیا ہے ۔تاہم اس معاملہ پر احمدآباد کے مسلم دانشوران کی الگ رائے سامنےآ رہی ہے ۔ اس سلسلہ میں آل انڈیا ملی كونسل گجرات یونٹ کے صدر مفتی رضوان تاراپوری کا کہنا کہ توگڑیا اپنی کھوئی ہوئی عزت کو واپس پانے کیلئے بھوک ہڑتال کا راستہ اپنا رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے گجرات حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ گجرات میں ہندو مسلم برادری کے درمیان باہمی بھائی چارہ بڑھ رہا ہے ۔ لیکن توگڑیا سے بیان سے ان دو کمیونٹیوں کے درمیان دوریاں پیدا ہوں گی ہے ۔ادھر مجلس مشاورت کے جنرل سیکریٹری اویش ملک کا کہنا ہے کہ توگڑیا کا دعوی غلط ہے ۔ وہ وی ایچ پی سے ناراض نہیں ہیں ، بلکہ آنے والے الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ کیونکہ مرکزی حکومت کے پاس ہندوتو کے مسئلہ کےعلاوہ کچھ بچا ہی نہیں اور توگڑیا بخوبی مرکزی حکومت کو فائدہ پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔