آج ایک بیوی رکھنا مشکل ہے 4 کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا

آج ایک بیوی رکھنا مشکل ہے 4 کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا

سپریم کورٹ میں عرضی داخل ہونے اور کورٹ کے ذریعے اس پر ایکشن لینے کے بعد سے ملک میں ایک بار پھر سے کثرت ازدواج پر بحث شروع ہو گئی ہے۔یہ عرضی خاص طور سے مسلم سماج میں چار چار بیویاں رکھنے کی اجازت پر داخل کی گئی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی اس عرضی کے خلاف کورٹ جانے کی تیاری کر رہا ہے۔کیونکہ تین طلاق ،کثرت ازدواج ،حلالہ بورڈ  سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔لیکن کیا حقیقت میں آج کسی بھی کمیونٹی میں کوئی چار چار بیویاں رکھتا ہے۔کیا کوئی ایسا بھی ہے جو چار چار شادیاں کرتا ہے۔چار بیویاں رکھنے کے بارے میں علی گڑھ مسلم یونیورسی میں سماج شاستر کے پروفیسر عبدالمتین نے کہا،'مہنگائی کے زمانے میں آج ایک بیوی رکھنا مشکل ہو رہا ہے تو چار بیوی کے بارے میں تو سوچا نہیں جا سکتا ہے۔کوئی مجھے بتادے کہ آج کس کی ہیں چار بیویاں۔دوسری بات یہ ہیکہ چار بیوی والے معاملے کو سماج نے کبھی بھی عزت کی نظر سے نہیں دیکھا ہے۔اب قانون توڑنے والے دو چار تو ہمیشہ سے رہے ہیں'۔دوسری بات یہ ہیکہ کبھی بھی کسی ایک مذہب کا معاملہ بن کر نہیں رہا ہے۔چار بیوی رکھنے والے ایک ہی دو انسان تو ہر کسی مذہب میں مل جاتے ہیں۔لیکن ایسے انسانوں کی وجہ سے کسی ایک برائی کو کسی مذہب کے اوپر نہیں تھوپا جا سکتا ہے۔اب ایسے میں پتہ نہیں کتنے لوگوں کو آپ کیا کہیں گے۔ایک لڑکا یا لڑکی لو۔ان رلیشن میں پتہ نہیں کتنے لوگوں کے ساتھ رہ لیتے ہیں'۔وہیں چار بیویوں کے بارے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر کمال فاروقی کا کہنا ہیکہ 'حلالہ تو حرام ہے پھر اس پر بحث کیسی۔رہا سوال تین یا چار بیویاں رکھنے کا تو اس وقت کے حالاتوں کے حساب سے ہوتی تھیں۔وہ حالات بھی دوسرے ہوا کرتے تھے۔لیکن موجودہ وقت میں تو وہ بھی نہیں ہو رہا ہے۔میں اپنی ہی جانکاری کے مطابق بتا دیتا ہوں کہ پرسنل لا بورڈ میرے  قریبی، پڑوس ،اور دور دور تک میرے جاننے والوں میں کسی نے چار شادیاں نہیں کی ہیں۔حقیقت تو یہ ہیکہ یہ سب 2019کے انتخابات کیلئے ایک پروپیگنڈہ ہے'۔مظفر نگر شہری اور کپڑے کا ہول سیل میں کاروبار کرنے والے امجد کا کہنا ہیکہ 'میری ایک بیوی ہے اور تین بچے ہیں۔اس ایک فیملی کو پالنے کیلئ ہی میں دن رات محنت کرتا ہوں کہ میرے بچوں کو اچھے سے اچھا پہننے اور کھانے کیلئے ملے۔انہیں اچھی تعلیم دلا سکوں۔ایسے میں چار بیوی تو دور کی بات میں دوسری رکھنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا ہوں'۔