وزیر اعظم مودی کا کانگریس پر نشانہ- بابری مسجد رام -جنم بھومی کیس کی سماعت ٹالنے کی سبل کی دلیل پر

وزیر اعظم مودی کا کانگریس پر نشانہ- بابری مسجد رام -جنم بھومی کیس کی سماعت ٹالنے کی سبل کی دلیل پر

وزیراعظم  نریندر مودی نے بابری مسجد /رام جنم بھومی تنازعہ کی سماعت کو آئندہ لوک سبھا انتخابات تک ٹالنے کی سینئر کانگریس لیڈر اور سنی وقف بورڈ کے وکیل کپل سبل کی دلیل پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ انتخابی فائدہ کے لئے اہم معاملات راکو زیرالتوا رکھنے والی کانگریس اسے سبل کا ذاتی خیال کیوں بتا رہی ہے- مودی نے یہاں ایک انتخابی اجلاس میں کہاکہ بی جے پی نے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے تین طلاق معاملہ کے تعلق سے اپنا موقف مضبوطی کے ساتھ رکھا جبکہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے ریاست میں بڑی تعداد میں مسلم رائے دہندگان ہونے کی وجہ سے ان کی حکومت انتخابی نقصان کے اندیشہ سے ایسا نہیں کرے گی۔ پر پارٹی نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ راجیو گاندھی کے وقت سے ہی زیرالتوا اس معاملے کانپٹارہ کروڑ وں مسلم بہنوں کی تکلیفوں کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ۔ اب ایسا کرنے والے کو سخت سزا والے قانون کی بھی پہل کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ جھوٹے انتخابی دعوے کرنے والی کانگریس نے اپنے سیاسی فائدہ کے لئے اہم سوالات کو ایسے ہی لٹکائے رکھنے کا کام کیا ہے اور ملک کی حالت خراب کی ہے ۔ مسٹر سبل سپریم کورٹ میں مسلم معاشرہ کے لئے وکالت کریں، بابری مسجدکے حق میں وکالت کریں اور دلائل پیش کریں تو یہ ان کا حق ہے۔ پر سماعت کو یا رام مندر کو لوک سبھا انتخابات سے جوڑنے کا کیا مطلب ہے۔ اس کا حق انہیں کس نے دیا ہے۔ کانگریس کہتی ہے کہ یہ ا ن کا ذاتی خیال ہے تو وہ یہ بتائے کہ کیا انتخابات وقف بورڈ لڑتا ہے کہ کانگریس لڑتی ہے۔ کانگریس کو سیاسی فائدہ دیکھنا ہے کہ ملک کا فائدہ دیکھنا ہے۔