حافظ سعید سمیت کئی دہشت گردوں کے بینک اکاؤنٹ کریگا بند پاکستان

حافظ سعید سمیت کئی دہشت گردوں کے بینک اکاؤنٹ کریگا بند پاکستان

امریکہ سمیت دنیا کے دباؤ کے چلتے پاکستان نے اپنی زمین پر پنپ رہی دہشت گردی کے خلاف کچھ سخت قدم اٹھائے ہیں۔صدر ممنون حسین نے 'اینٹی ٹیررزم ایکٹ'سے جڑے آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔اس کے تحت اب پاکستان حکومت کو ان دہشت گرد تنظیموں اور ان سے جڑے لوگوں کے آفس اور اکاؤنٹ بند کرنے ہوں گے جنہیں  اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل (یواین ایس سی) بند کر چکی ہے۔واضح ہو کہ اب تک پاکستان ان تنظیموں پر اپنی مرضی کے حساب سے کارروائی کرتا آیا ہے جو صرف دکھاوے کیلئے ہوتے تھے۔پاکستان کے اخبار 'دا ٹربیون 'کی ایک رپورٹ میں دہشت گردی کے خلاف قانون میں اہم تبدیلی کی جانکاری دی ہے۔افسران کواقوام متحدہ کے ذریعے محدود لوگوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کئے جانے ان کے دفتروں اور بینک اکاؤنٹ کو سیل کئے جانے کا حق دیا گیا ہے۔قومی انسداد دہشت گرد اتھارٹی (این اے سی ٹی اے)نے اس نئے قدم کی تصدیق کی ہے۔این اے سی ٹی اےکے مطابق اب وزیر داخلہ، وزیر خزانہ اور خارجہ امور کےوزیرکے ساتھ ساتھ این اے سی ٹی اےکی دہشت گرد فنانسنگ مخالف (سی ایف ٹی )یونٹ اس معاملے پر ایک ساتھ مل کر کام کریگی۔حالانکہ اس تعلق میں راشٹر پتی بھون نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا ہے۔اقوام متحدہ  کی پابندی شدہ فہرست میں القاعدہ ،تحریک طالبان پاکستان،لشکر جھنگوی،جماعت الدعوہ،فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) ،لشکر طیبہ اور دیگر شامل ہیں۔پاک حکومت نے نئے قانون کے بعد ان تنظیموں کی فنڈنگ پراثر پڑےگا۔حالیہ  دنوں میں کئی ملکوں میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔افغانستان میں ہوئے کئی حملوں میں دہشت گردوں سے پاکستانی ہتھیار بھی ملنے کا دعوی کیا گیاہے۔پاکستان دہشت گردوں کیلئے پاکستان دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاربنتا جا رہا ہے۔ایسے میں ہندستان،امریکہ سمیت دنیا کے کئی ملک پاکستان پر دباؤ بنارہے تھے۔امریکی صدر ٹرمپ نے کئی مرتبہ انتباہ دینے کے بعد پاکستان کودی جانے والی اقتصادی اور فوجی مدد بھی روک دی  تھی۔ادھر اقوام متحدہ بھی دباؤ ڈال رہا تھا ایسے میں پاکستان کو آخرکار دہشت گردوں کے خلاف قدم اٹھانا پڑا۔اس کے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان افراتفری، تشدد اور دہشت گردی پھیلانے والوں کو محفوظ پناہ فراہم کرتا ہے۔اس کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں میں گرماہٹ ختم ہو گئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ میں یہ بحث چل رہی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر اقتصادی مدد دی جانی چاہئے یا نہیں۔واضح ہو کہ امریکہ 2002سے اب تک پاکستان کو دہشت گردی سے لڑنے کیلئے 33ارب ڈالر (قریب 2لاکھ 11ہزار کروڑ)روپئے کی اقتصادی مدد دے چکا ہے۔امریکہ نے اگست میں کہا تھا کہ جب تک پاکستان دہشت گردگروپوں پر کارروائی سخت نہیں کرتا وہ اسے دی جانے والی 25.5کرور ڈالر کی اقتصادی مدد روک کر رکھے گی۔وہیں پاکستان کے سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب پولیس نے دہشت گرد حافظ سعید کے پابندی شدہ 'جماعت الدعوۃ'کے خلاف کارروائی کی ہے۔پولیس نے 'جماعت الدعوۃ'کے ہیڈ کوارٹر کے باہر ایک دہائی سے زیادہ وقت پہلے سکیورٹی کے  نام پر لگائے گئے بلاکس ہٹادئے ہیں۔بتادیں کہ پاک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب پولیس کو لاہور میں سکیورٹی کے نام پر بلاک کی گئی سبھی سڑکوں کو کھولنے کا حکم دیا تھا۔