چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف ان وجوہات کی بنیاد پر تحریک مواخدہ لانا چاہتی ہے اپوزیشن

چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف ان وجوہات کی بنیاد پر تحریک مواخدہ لانا چاہتی ہے اپوزیشن

کانگریس سمیت سات اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو سے ملاقات کی اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف تحریک مواخذہ کا نوٹس دیا۔نوٹس سونپنے کے بعد راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد اور کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ کچھ معاملات میں چیف جسٹس نے وقار کی خلاف ورزی کی ہے۔کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے مجموعی طور پر 71 اراکین کے دستخط ہیں جن میں سات کی مدت ختم ہوچکی ہے جب کہ 64 ابھی بھی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ نوٹس پر کانگریس ، سی پی آئی، سی پی ایم، سماج وادی پارٹی، این سی پی، بی ایس پی اور انڈین مسلم لیگ کے اراکین نے دستخط کئے ہیں۔اپوزیشن نے سی جے آئی کے خلاف پہلا الزام خراب وقار کا لگایا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ سی جے آئی دیپک مشرا کا رویہ ان کے عہدہ کے مطابق نہیں ہے۔ کئی معاملوں میں وہ سپریم کورٹ کے باقی ججوں کی رائے نہیں لیتے ، انہوں نے کئی معاملوں میں آئینی ہدایات کی خلاف ورزی کی ۔اپوزیشن نے سی جے آئی پر دوسرا الزام پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ سے فائدہ اٹھانے کا لگایا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ سی جے آئی دیپک مشرا نے اس سلسلہ میں داخل سبھی عرضیوں کو متاثر کیا ۔ کیونکہ وہ پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ سے وابستہ سبھی معاملوں کی سماعت کرنے والی بینچ کی قیادت کررہے تھے ۔ ایسا کرکے انہوں نے ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ۔اپوزیشن نے سی جے آئی دیپک مشرا پر سپریم کورٹ کے روسٹر میں منمانے طریقہ سے تبدیلی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ سی جے آئی نے کئی اہم کیسوں کو دوسری بینچ سے کوئی واجب وجہ بتائے دوسری بینچ میں منتقل کردیا ۔ کئی اہم معاملات جو دوسری بینچ میں زیر غور تھے ، ماسٹر آف روسٹر کے تحت سی جے آئی نے ان معاملوں کو بھی اپنی بینچ میں منتقل کرلیا ۔اپوزیشن نے سی جے آئی دیپک مشرا پر اہم کیسوں کی تقسیم میں بھید بھاو کا الزام بھی لگایا ہے۔ در اصل سی بی آئی اسپیشل کورٹ کے جج بی ایچ لویا کا کیس سی جے آئی نے سینئر ججوں کو ہوتے ہوئے جونیئر جج ارون مشرا کی بینچ کو دیدیا تھا۔ جنوری میں سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے جب عدالتی نظام کو لے کر پریس کانفرنس کی تھی تب اس معاملہ کو اہمیت سے اٹھایا بھی تھا۔اپوزیشن نے سی جے آئی پر پانچواں الزام زمین قبضہ کرنے کا لگایا ہے۔ اپوزیشن کے مطابق جسٹس دیپک مشرا نے 1985 میں ایڈووکیٹ رہتے ہوئے فرضی حلف نامہ دکھا کر زمین کی تحویل لی تھی ۔ اے ڈی ایم کے ذریعہ الاٹمنٹ رد کئے جانے کے باوجود ایسا کیا گیا تھا ۔ حالانکہ سال 2012 میں سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد انہوں نے زمین سرینڈر کردی تھی ۔