اجودھیا : بابری مسجد انہدام کی 25 ویں برسی معمولات زندگی معمول پر، پولیس کی سخت چوکسی

اجودھیا : بابری مسجد انہدام کی 25 ویں برسی معمولات زندگی معمول پر، پولیس کی سخت چوکسی

اجودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ منہدم ہونے کی 25 ویں برسی پر معمولات زندگی تو معمول پر ہے لیکن پولیس سخت چوکسی برت رہی ہے۔ برسی کو ہندو اور مسلمان اپنے اپنے طریقے سے منا رہے ہیں۔ وشو ہندو پریشد اور کچھ دیگر ہندو تنظیم فتح یا شوریہ دیوس کی حیثیت سے پروگرام منعقد کر رہے ہیں جبکہ مسلمانوں کی جانب سے ’یوم غم ‘ منایاجا رہا ہے۔ بائیں بازو کی پارٹیوں نے اس دن کو آئین بچاؤ دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ مسلمانوں نے کہیں کہیں تجارتی ادارے بند رکھے ہیں۔وی ایچ پی ہیڈکوارٹر کارسیوک پورم میں دوپہر بعد اجتماع کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی کے وسیع پیمانہ پر انتظامات کئے گئے ہیں۔ چپے چپے پر پولیس نظر رکھ رہی ہے۔ مرکزی فورسز کی بھی تعیناتی کی گئی ہے۔ مسلمانوں نے ظہر کی نماز میں سپریم کورٹ سے بابری مسجد کے حق میں فیصلہ آنے کے لئے دعا کرنے کی اپیل کی ہے۔ دونوں فرقوں کے پروگراموں کے پیش نظر اتر پردیش میں کل ہی هائی الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹوں اور ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹوں کو ہدایت دی گئی تھی۔دریں اثنا، ضلع مجسٹریٹ انل پاٹھک نے بتایا کہ قانون اور امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ضلع کو چار زون اور دس سیکٹر میں بانٹ کر چار زونل مجسٹریٹ، دس سیکٹر مجسٹریٹ اور چودہ اسسٹنٹ سیکٹر مجسٹریٹ کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سات مجسٹریٹ کو ریزرو میں بھی رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متنازع شري رام جنم بھومی کی حفاظت کے لیے مقامی پولیس فورس کے علاوہ دس ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ، چار ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ، 12 کمپنیاں نیم فوجی دستے، چار سو سپاہی ، ایک پلاٹون خواتین كمانڈو، ایک سو پچاس كانسٹبل لگائے گئے ہیں. اس کے علاوہ بم ڈسپوزل اسکواڈ سمیت مختلف مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں. حساس علاقوں میں پولیس مسلسل گشت کر رہی ہے۔