سعودی عرب: بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاون پر ولی عہد محمد بن سلمان نے کھولی اپنی زبان

سعودی عرب: بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاون پر ولی عہد محمد بن سلمان نے کھولی اپنی زبان

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت میں اصلاحات کی نئی لہر اور بدعنوانی کے خلاف اپنی مہم کوشاک تھیریپی کا نام دیا ہے۔محمد بن سلمان کے مطابق مملکت میں ثقافتی اور سیاسی زندگی کے ارتقاء اور شدت پسندی کا سر کچلنے کے لیے یہ اقدامات نا گزیر تھے۔ ساتھ ہی ساتھ محمد بن سلمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف ان کی مہم کے دوران گرفتار کیے گئے افراد میں سے 56 کے علاوہ باقی تمام کو ہرجانوں کی ادائیگی کے بعد رہا کیا جا چکا ہے۔العربیہ نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دئے محمد بن سلمان کے ایک انٹرویو کے حوالے سے بتایا کہ ہے محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ لوٹ مار پر روک لگائے بغیر مملکت کے بجٹ اہداف کو کسی طور پورا نہیں کیا جا سکے گا۔ ساتھ ہی ساتھ بن سلمان کے مطابق بدعنوانی کی مثال سرطان کے مرض جیسی ہے، جب یہ پھیلنے لگے تو پھر کیمو تھراپی لازم ہو جاتی ہے نہیں تو وہ پورے جسم یعنی پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔سعودی ولی عہد نے امریکی اخبار کو بتایا کہ بدعنوان شہزادوں کی تعداد کم رہی ہے تاہم ان کے اطراف سرگرم شخصیات نے اس برائی پر زیادہ توجہ دی۔ اس امر نے شاہی خاندان کی صلاحیت اور قدرت کو نقصان پہنچایا۔ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ان کو عوام کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، نہ صرف سعودی نوجوانوں کی بلکہ وہ شاہی خاندان کے افراد کی بھی حمایت رکھتے ہیں۔ اپنی مقامی اور علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے بن سلمان نے کہا کہ یہ تبدیلیاں مملکت کی ترقی کے لیے فنڈنگ اور مملکت کے ایران جیسے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے واسطے مرکزی اہمیت رکھتی ہیں۔