مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں این آئی اے کے وکیل نے کہا : ہاں  میں اے بی وی پی سے وابستہ تھا

مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں این آئی اے کے وکیل نے کہا : ہاں  میں اے بی وی پی سے وابستہ تھا

مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں اسیما نند سمیت سبھی ملزموں کے بری ہونے کے درمیان اب انکشاف ہوا ہے کہ اس کیس میں سرکاری وکیل رہے این ہری ناتھ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کی یونٹ اے بی وی پی کے رکن رہ چکے ہیں انہوں نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے ۔ حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ کافی پرانی بات ہے اور اس کا ان کے پیشے سے کوئی بھی لینا دینا نہیں ہے ۔ہری ناتھ نے بتایا کہ وہ لا کالج میں دوسرے سال کے دوران اے بی وی پی کے رابطہ میں آئے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے کئی دوست اس سے وابستہ تھے اور انہیں ہی دیکھ کر میں بھی اس سے وابستہ ہوگیا ، لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس وابستگی نے کبھی بھی میرے کام کو متاثر نہیں کیا اور نہ تو میں نے کبھی بی جے پی کیلئے کام کیا ہے۔در اصل اس معاملہ کے پانچ ملزموں کو این آئی اے کی خصوصی عدالت کے ذریعہ بری کئے جانے کے بعد سے ہی خصوصی سرکاری وکیل کے عہدہ پر ہری ناتھ کی تقرری کو لے کر سوالات کھڑے کئے جارہے ہیں ۔ اے بی وی پی کے ساتھ وابستگی کے علاوہ کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجرمانہ معاملات میں ہری ناتھ کا تجربہ انتہائی کم تھا اور مکہ مسجد بم دھماکہ جیسی دہشت گردانہ وارداتوں کیلئے قتل کیس کی سماعت سے وابستہ تجربہ کی بھی کمی ہے ۔حالانکہ ہری ناتھ نے ان الزامات کو سرے سے ہی خارج کردیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ سال 2000 سے ہی میں وکیل رہا ہوں اور 2004 سے لے کر 2009 تک ہائی کورٹ میں سرکاری لا افسر کا رول ادا کرتا رہا ہوں ۔ وہ کہتے ہیں کہ 2011 میں یو پی اے حکومت کےد وران ہی انہیں مستقل وکیل بنایا گیا تھا۔ اس کے چار سال بعد انہیں این آئی اے کی طرف سے جرح کرنے کی اجازت ملی۔ اس کے ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ این ڈی اے حکومت کے دوران مجھے مستقل وکیل بنائے جانے کی بات پوری طرح سے غلط ہے۔اس کے ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ مکہ مسجد کیس 2010 میں یو پی اے حکومت کے دوران ہی کمزرو پڑ گیا تھا ۔ اس وقت اس معاملہ کی جانچ سی بی آئی کررہی تھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ 2012 میں این آئی اے کو یہ معاملہ سونپا گیا تھا ، جس نے 2013 میں اضافی چارج شیٹ داخل کی تھی ، اس وقت بھی یوپی اے کی حکومت ہی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ ثبوت اور گواہوں کے بیانات پر منحصر ہوتا ہے۔ مکہ مسجد کیس کے معاملہ میں زیادہ تر گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے اور این آئی اے کے پاس ثبوت کے نام پر کیا تھا ، صرف اسیمانند کا اقبالیہ بیان ، جو کہ 2010 میں ہی کمزور پڑ چکا تھا ۔ یہ معاملہ انتہائی شفافیت اور ایمانداری سے لڑا گیا ، لیکن ٹھوس ثبوتوں کے بغیر کوئی وکیل کچھ نہیں کرسکتا ۔