مولانا خالد سیف اللہ: تین طلاق پر حکومت کا مجوزہ قانون شریعت میں مداخلت اورعورتوں کے لئے نقصاندہ

 مولانا خالد سیف اللہ: تین طلاق پر حکومت کا مجوزہ قانون شریعت میں مداخلت اورعورتوں کے لئے نقصاندہ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری وترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ حکومت نے ’مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس آن میریج‘ کی تفصیلات توواضح نہیں کی ہے لیکن حکومت کی طرف سے یہ بات آئی ہے کہ وہ طلاق ثلاثہ کوغیرقانونی قراردے گی اور اس کی وجہ سے شوہرکوتین سال جیل کی سزاہوگی۔ انہوں نے جاری اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ یہ مجوزہ قانون شریعت میں مداخلت بھی ہے اورعورتوں کے لئے نقصاندہ بھی۔ تین طلاق دینا اسلام میں ناپسندیدہ ہے اورمسلم پرسنل لابورڈ ایسے واقعات کوکم کرنے کے لئے مسلسل اصلاح معاشرہ اورتفہیم شریعت کی تحریک چلا رہا ہے ، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بہرحال یہ مذہبی مسئلہ ہے۔ تین طلاق کے واقعات کوکس طرح روکاجائے اوراس پرشوہرکوتنبیہ کا کیاطریقہ ہو؟اس سلسلہ میں حکومت کومسلمانوں کے معتبرمذہبی قائدین بالخصوص آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ سے مشورہ کرناچاہئے تاکہ شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس کا حل ڈھونڈا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ طلاق دینے والے شوہرکوتین سال کے لئے جیل بھیج دینا خودعورتوں کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اگرمطلقہ کے بچے ہوں توان کے نفقہ کی ذمہ داری اسی مرد پرہے،اگروہ جیل چلا گیا توان بچوں کی کفالت کس طرح ہوگی؟اس کا دوسرانقصان یہ ہوگاکہ جولوگ طلاق دیناچاہتے ہیں ،وہ طلاق تونہیں دیں گے؛لیکن یوں ہی بیوی کولٹکا کررکھیں گے۔ نہ اس  کو ازدواجی حقوق مل سکیں گے اورنہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے کے لئے آزاد رہ سکیں گے۔مولانا خالد سیف اللہ نے کہا کہ اس کے علاوہ اگرحکومت سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے مطابق تین طلاق کوغیرمعتبرقراردیتی ہے توپھرمرد کوسزا دینا بے معنی ہوگا۔ کیوں کہ جب طلاق پڑی ہی نہیں توپھرسزا کس بات کی؟ اوریہ بات بھی پیش نظررکھنی چاہئے کہ اگر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے مطابق طلاق کوبالکل غیرمعتبرقرار دیا گیا توعورت سخت دشواری میں پڑ جائے گی۔ کیوں کہ قانون کی نظرمیں وہ طلاق دینے والے مرد کی بیوی سمجھی جائے گی اورمسلم سماج اس کوبیوی تسلیم نہیں کرے گا،اس سے بڑی پیچیدگی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگرحکومت واقعی تین طلاق دی جانے والی خواتین کے مسائل کوحل کرناچاہتی ہے تواسے مسلم پرسنل لابورڈ ،مذہبی تنظیموں اورمسلم سماج کی معتبرمذہبی شخصیتوں سے مشورہ کرناچاہئے اورعجلت میں کوئی ایساقدم نہیں اٹھاناچاہئے جس سے دستورکے تقاضے مجروح ہوں اورمسلمانوں کے مذہبی حقوق میں مداخلت کی صورت پیدا ہو۔