ارون جیٹلی: عام انتخابات کے ساتھ ریاستوں کے الیکشن کا امکان نہیں

ارون جیٹلی: عام انتخابات کے ساتھ ریاستوں کے الیکشن کا امکان نہیں

مرکزی ویر خزانہ ارون جیٹلی نے مئی 2019 میں طے لوک سبھا انتخابات سے پہلے مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہونے کی قیاس آرائیوں کو خارج کردیا ہے ۔ اس ہفتہ صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم اور وزیر قانون نے ایک ساتھ الیکشن کے حق میں بیانات دئے تھے ، جس کے بعد عام انتخابات کو مقررہ وقت سے پہلے کرانے کی قیاس آرائی شروع ہوگئی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ حکومت ایک ساتھ الیکشن چاہتی ہے ، لیکن اس کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ تاریخیں آگے بڑھائی جائیں ۔ یہ پورا انٹرویو پیر کو نشر کیا جائے گا۔جیٹلی نے اس سال کے آخر میں ہونے والے مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات میں تاخیر کرنے اور عام انتخابات کے ساتھ کرانے کے امکانات کو بھی خارج کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے قدم کیلئے آئین میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی ۔ جیٹلی نے کہا کہ جب تک آئین میں تبدیلی نہیں ہوتی ہے اور ان معاملات پر اتفاق رائے قائم نہیں ہوجاتا ہے ، اسبملی اور لوک سبھا انتخابات ایک ساتھ نہیں ہوں گے اور جیسا کہ اس مسئلے پر رد عمل آیا ہے ، اس سے لگتا ہے کہ لوگ ایسے کسی بھی قدم کے حق میں نہیں ہے۔سیاسی گلیاروں میں قیاس آرائی کی جارہی تھیں کہ لوک سبھا کے ساتھ اسمبلی انتخابات کو جوڑ کر بی جے پی اپنی ریاستی حکومتوں کے خلاف کسی بھی طرح کی اقتدار مخالف لہر کا سامنا کرسکتی ہے اور وزیر اعظم مودی کی مقبولیت کی وجہ سے فاتح کے طور پر ابھر سکتی ہے ۔ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار مئی 2019 میں اپنے پانچ سال پورا کرے گی۔مودی نے لگاتار انتخابات کی وجہ سے انتظامیہ کو پیش آنے والی روکاوٹوں کے پیش نظر ریاستوں اور مرکز کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی خواہش کبھی نہیں چھپائی ہے ۔ انہوں نے اس ہفتہ کے شروع میں بھی ایسا ہی ایک بیان دیا تھا ۔ وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ کے رواں سیشن کی شروعات میں سبھی پارٹیوں سے سیاسی لائن سے اوپر اٹھ کر اس بارے میں ( ایک ساتھ انتخابات) غور کرنے کیلئے کہا تھا۔بجٹ اجلاس کے پہلے دن پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے بھی اپنی تقریر میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کو ایک ساتھ کرانے پر زور دیا تھا۔اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کا رد عمل ابھی تک اس سلسلہ میں کافی بے دلی پر مبنی رہا ہے ۔ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے اس  کو ایک اور جملہ قرار دیا تھا ۔ انہوں نے اس ہفتہ کے شروع میں ایک کتاب کے رسم اجرا کے موقع پر کہا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت میں خاص طور پر جب ہمارے پاس 30 ریاستیں ہیں ، تو موجودہ آئین کے تحت ایک ساتھ الیکشن نہیں ہوسکتے ۔چیف الیکشن کمشنر اوپی راوت کا بھی یہ موقف ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی کے ایک ساتھ انتخابات کرانے کیلئے آئین میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی ۔ حالانکہ کہ کمیشن ایک ساتھ الیکشن کرانے کیلئے تیار ہے۔