بی سی سی آئی کو آرٹی آئی کے دائرے میں لایاجائے: لا کمیشن

بی سی سی آئی کو آرٹی آئی کے دائرے میں لایاجائے: لا کمیشن

بی سی سی آئی کو مزید شفاف بنانے کے لئے لا کمیشن نے بڑی تبدیلی کرنے کی تجویز پیش کی  ہے۔ کمیشن نے اس کے لئے بی سی سی آئی کو آرٹی آئی کے تحت لانے کا مشورہ  دیا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ پرائیویٹ ادارہ ہونے کی وجہ سے بی سی سی آئی کو ابھی تک آرٹی آئی سے چھوٹ ہے۔ دنیا کے سب سے مالدار کرکٹ بورڈ میں شفافیت بڑھانے اور بدعنوانی کو ختم کرنے کےلئے یہ تجویز دی گئی ہے۔لا کمیشن نے بی سی سی آئی میں بڑی تبدیلی کرنے سے متعلق اپنی رپورٹ سرکار کو سونپ دی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ بی سی سی آئی کو آرٹی آئی کے دائرے میں لایاجائے۔ لا کمیشن نے سرکار سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بی سی سی آئی کو ایک پبلک باڈی کا درجہ ملے۔ بی سی سی آئی کو نیشنل اسپورٹس فیڈریشن (این ایف ایس) کا درجہ دیاجائے۔ بی سی سی آئی کے خلاف کورٹ میں بھی اپیل ڈالی جاسکے، چاہے معاملہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ہی کیوں نہ ہو۔اگر مرکزی سرکار لاکمیشن کی رپورٹ کو مانتی ہے تو بی سی سی آئی میں مناسب تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ لا کمیشن کا مطالبہ ہے کہ بی سی سی آئی کا درجہ ایک عوامی باڈی کی طرح ہو اور بی سی سی آئی سے جڑے ہوئے ضروری معاملات کو آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت لایاجائے، جس سے ہر کسی کو بی سی سی آئی سے منسلک معاملات کو جاننے کا حق مل سکے۔عدالت عظمیٰ کے سابق جج جسٹس بی ایس چوہان کی صدارت میں بنائی گئی لا کمیشن نے یہ مشورہ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کے پاس بھیجا ہے۔ واضح رہے کہ آئی پی ایل میں اسپاٹ فکسنگ کامعاملہ سامنے آنے کے بعد سے ہی کرکٹ بورڈ میں سدھار کے لئے کئی بڑے اقدامات کئے گئے۔ لاکمیشن نے اپنے مشورے میں بی سی سی آئی اور اس کے تمام متعلقین کو آرٹی آئی میں لانے کا مشورہ دیاہے۔