کپل سبل: میں کبھی بھی سپریم کورٹ میں سنی وقف بورڈ کا وکیل نہیں رہا، جب بھگوان رام چاہیں گے تبھی مندر بنے گا

کپل سبل: میں کبھی بھی سپریم کورٹ میں سنی وقف بورڈ کا وکیل نہیں رہا، جب بھگوان رام چاہیں گے تبھی مندر بنے گا

سینئروکیل اور کانگریس کے لیڈر کپل سبل نے کہا کہ انھوں نے سپریم کورٹ میں اجودھیا معاملہ میں کبھی بھی سنی وقف بورڈکی نمائندگی نہیں کی ہے ۔ سبل نے ایک چینل سے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی کبھی بھی جانکاری کے بغیر تبصرہ کردیتے ہیں ۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ انھوں نے اور بھارتیہ جنتاپارٹی کے صدر امت شاہ نے کہا کہ میں نے سنی وقف بورڈ کی نمائندگی کی ہے ۔میں سپریم کورٹ میں کبھی بھی سنی وقف بورڈ کا وکیل نہیں رہاہوں ۔سبل نے کہا کہ وہ بھگوان میں یقین رکھتے ہیں ۔ہم مودی جی پر بھروسہ نہیں کرتے اور وہ اس مندر کو نہیں بنانے والے ہیں ۔مندر تبھی بنے گا جب بھگوان رام چاہیں گے ۔اجودھیامعاملہ کا فیصلہ عدالت کریگی۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ملک کی تشویش دور کرنی چاہئے ۔اس طرح ملک کے عوام کو بانٹنا نہیں چاہئے ۔شاید آپ اپنے آپ میں جیت جائیں لیکن اگر آپ اپنے بارے میں ہی سوچتے رہیں گے تو ہندستان ہار جائیگا۔ سبل نے کل سپریم کورٹ میں اجودھیامعاملہ کی سماعت کے دوران کہاتھا کہ اس معاملہ کی سماعت آئندہ عام انتخابات کے بعد یعنی جولائی 2019میں کرائی جائے ۔