جمعیتہ علما سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی، میجر رمیش اپادھیائے کی ضمانت کے خلاف: گلزار اعظمی

جمعیتہ علما سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی، میجر رمیش اپادھیائے کی ضمانت کے خلاف: گلزار اعظمی

مالیگاؤں2008بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملز م ریٹائرڈ میجر رمیش اپادھیائے کو ممبئی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت کو منسوخ کرانے کے لئے متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیتہ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے نیز سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو ملی ضمانت کو منسوخ کرانے کے لیئے معاملے کی اگلی سماعت یعنی کے 31اکتوبر کو عدالت میں جمعیت کے وکلا اپنے دلائل پیش کریں گے۔ یہ اطلاع  یہاں ممبئی میں جمعیتہ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔ اخبارنویسوں کے نام جاری اپنے ایک بیان میں گلزار اعظمی نے کہا کہ گذشتہ دنوں ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس رنجیت مورے اور جسٹس پھانسلکر جوشی نے ملزم رومیش اپادھیائے کو صرف اس بنیاد پر ضمانت پر رہا کیا کہ سپریم کورٹ نے کرنل پروہیت کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے۔ گلزار اعظمی نے کہا عموماً دہشت گردانہ معاملات میں پیریٹی یعنی کی یکسانیت و برابری کی بنیاد پر ملزمین کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جاتا لیکن اس معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ نے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا ہے لہذا جمعیت علما نے سینئروکلا سے صلاح و مشورہ کرکے ممبئی ہائیکورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس تعلق سے تیاری شروع کردی گئی ہے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ اس سے قبل بھی ممبئی ہائی کورٹ کی اسی دو رکنی بینچ نے مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملے کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کو ضمانت پر رہا کیا تھا جس کے خلاف جمعیت علماء نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر گذشتہ کل سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سادھوی کے وکلانے عدالت سے کہا کہ وہ اس معاملے میں مزید کوئی دستاویزات داخل نہیں کریں گے جس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت 31 اکتوبر کو کئے جانے کا حکم جاری کیا۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ سادھوی کے معاملے کی سماعت عدالت عظمی کی دو رکنی بینچ کے جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس عبدالنظیر کے سامنے عمل میں آئی جس کے دوران جمعیت علما کی جانب سے وکلا کی ایک ٹیم موجود تھی جس کی سربراہی سینئر ایڈوکیٹ امریندر شرن کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ دھماکوں کے متاثرین میں سے ایک نثاراحمد سید بلال جن کا جواں سال فرزند سید اظہر دھماکوں میں شہید ہوگیا تھا کی جانب سے بطور مداخلت کار سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی ہے جسے گذشتہ سماعت پر ہی عدالت نے قبول کرلیا تھا نیز ملزمہ سادھوی کے خلاف نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ واضح رہے کہ 29 ستمبر2008کو ہونے والے اس سلسلہ واربم دھماکہ معاملے میں 6مسلم نوجوان شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے ، مقدمہ کی ابتدائی تفتیش انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) نے آنجہانی ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں کی تھی اور پہلی بار بھگواء دہشت گردی پر پڑے پردے کو بے نقاب کیا تھا لیکن مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سے اس معاملے کی بلا وجہ تازہ تحقیقات کرنے والی قومی تفتیشی ایجنسی  نے بھگواملزمین کو فائدہ پہنچانے کا کام شروع کردیا اور اضافی فرد جرم داخل کرتے ہوئے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر بھگوا ملزمین کو راحت پہنچائی۔