جمعیۃ علما ہند کا یروشلم کے مسئلہ پر حکومت ہند کی حمایت پر شکریہ

 جمعیۃ علما ہند کا یروشلم کے مسئلہ پر حکومت ہند کی حمایت پر شکریہ

اقوام متحدہ میں امریکہ کے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے فیصلہ کے خلاف فلسطین کی حمایت میں ووٹ ڈال کر ہندوستان کی این ڈی اے حکومت نے گاندھی جی کے نظریہ کی تائید کی ہے۔ یہ قابل قدر ہے جس کاہم خیر مقدم کرتے ہیں اور عالمی برادری کے بھی شکرگزارہیں جنہوں نے سچائی اور عدل وانصاف کا ساتھ دیا اور کسی د باؤ میں آئے بغیرکھل کر امریکہ کی مخالفت کی ۔ ان خیالات کا اظہار ہندوستان کے معروف ملی رہنما اورجمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ا رشدمدنی نے اپنے اخباری بیان میں کیا ۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ آزادی سے پہلے فلسطین کے مسئلہ پر جو مہاتماگاندھی اور کانگریس کا نظریہ تھا مودی سرکار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسی پر عمل کرکے حق و صداقت کا ثبوت دیا ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔صدرجمعیۃ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ فلسطین کے مسئلہ پر خارجہ پالیسی میں این ڈی اے حکومت بھی کانگریس کے نقش قدم پر چل رہی ہے ۔ اوراس معاملہ میں دونوں کا موقف ایک ہے ۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ دونوں کی خارجہ پالیسی فلسطین کے مسئلہ پر مختلف ہے ، بی جے پی سرکار کا جہاں فلسطین کی حمایت کرنا قابل قدر ہے وہیں اسرائیل سے بڑھتے تعلقات افسوسناک اور قابل تشویش ہیں۔ کانگریس اور سابقہ تمام حکومتوں نے اسرائیل سے فاصلہ بنائے رکھا تھا لیکن این ڈی اے حکومت نے قربت بہت زیادہ بڑھا دی ہے۔  وزیراعظم وہاں کا دورہ کرچکے ہیں اس لئے دونوں کی خارجہ پالیسی ایک نہیں کہی جا سکتی اورنہ ہی ہم اسے بہتر سمجھتے ہیں۔۔مولانا مدنی نے کہا کہ عالمی برادری کوسنجیدگی سے اس پر بھی غورکرنا ہوگا کہ جو خود کو جمہوریت اور سیکولر زم کا علمبردارسمجھتا ہے وہ آج کس طرح اس کی دھجیاں اڑارہا ہے، طاقت کے زورپر اکثریت اور دنیا کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکارکررہاہے اور اپنی منمانی دنیا پر مسلط کررہا ہے ۔ یاد رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی راجدھانی قراردیئے جانے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قراردادپیش ہوئی تھی جس میں ہندوستان نے بھی امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کرتے ہوئے فلسطین کے حق میں ووٹ دیا تھا۔