کابینہ کا فیصلہ 12 سال کی بچی سے ریپ معاملے موت کی سزا: ہریانہ

کابینہ کا فیصلہ 12 سال کی بچی سے ریپ معاملے موت کی سزا: ہریانہ

ہریانہ کابینہ کی میٹنگ میں منگل کو بڑا فیصلہ لیتے ہوئے 12سال تک کی عمر کی بچی کے ساتھ ریپ یا اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں موت کی سزا کا قانون بنایا گیاہے۔اس کے علاوہ کم از کم 14 سال کی قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔اور اس کی سزا کا وقت بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔مدھیہ پردیش کے بعد ہریانہ دوسری ایک ایسی ریاست بن گئی ہے جس میں 12 سا ل تک کی بچیوں کے ساتھ اتنی سخت سزا کا قانون بنایا گیا ہے۔ ہریانہ کی کابینہ میں منظور کرایا جائیگا۔بتایا جا تا ہیکہ ہریانہ کی کابینی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا  کہ ریپ ملزموں پر سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ریاستی وزیر کرشنا سنگھ بیدی نے کابینہ کے فیصلے کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 18 مسئلوں  پر بحث کی گئی ۔اس میں ہریانہ پولیس نے نان گیجڈیٹ رینک میں بھی کچھ بدلاؤ کئے گئے ہیں۔ساتھ ہی جس خاندان کا کوئی بھی شخص سرکاری نوکری میں نہیں ہے انہیں کنسٹیبل بھرتی میں 5 فیصد کی چھوٹ دی جائیگی۔ریاست کی نئی ٹیکسٹائل کی پالیسیبھی بنائی گئی ہے۔اس کے تحت پانچ ہزار لوگوں کو نوکری ملے گی۔اور آنے والے دس سالوں میں ایک لاکھ لوگوں کو روزگار دیا جائیگا۔