گودھرا ٹرین حادثہ میں گجرات حکومت، ریلوے اور مرکز برابر کے ذمہ دار

 گودھرا ٹرین حادثہ میں گجرات حکومت، ریلوے اور مرکز برابر کے ذمہ دار

گودھرا ٹرین حادثہ کے 11مجرمین کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرتے وقت گجرات ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں جن پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے اس سے اس وقت کی گجرات حکومت اور ریلوے کی نیت اور کارکردگی پر سنجیدہ سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں جہاں یہ بات واضح کی ہے کہ سابرمتی ایکسپریس کی S-6کوچ میں بہت بھیڑ تھی جس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 59ہوئی، وہیں عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا ہےکہ تقریباً 100افراد کوچ کی دوسری جانب سے باہر نکل کر اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے ،جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مجرمین زیادہ افراد کو نہیں مارنا چاہتے تھے۔واضح رہے 27فروری 2002کی صبح کو سابر متی ایکسپریس کی S-6کوچ کو نذر آتش کر دیا گیا تھا جس میں سفر کر رہے 59کارسیوکوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔ جسٹس دوے اور جسٹس جی آر ادھوانی نے پیر کو جو اس معاملے میں فیصلہ سنایا اس میں انہوں نے کہا ہے کہ مرنے والوں کی زیادہ تعداد کی وجہ کوچ میں موجود زبردست بھیڑ تھی اور اگر کوچ میں بھیڑ کم ہوتی تو یہ تعداد کم ہو سکتی تھی۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمین نے کوچ کو آگ لگائی اور لگانے کا مقصد لوگوں کی جان لینا اور زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا، لیکن جب دوسری جانب سے 100سے زیادہ لوگ فرار ہونے میں کامیاب رہے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمین کے ذہن میں زیادہ لوگوں کو مارنا نہیں تھا۔ مجرمین کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے تعلق سے آرڈر میں کہا گیا ہے کہ تمام شواہد کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد اس معاملے میں موت کی سزا ٹھیک نہیں ہے۔اس سارے معاملے میں اس وقت کی ریاستی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’عوام کی ایک بڑی تعداد نے انتہائی متنازعہ اور حساس ایودھیا معا ملے میں کار سیوا کے لئے اعلان کیا ہوا تھا اس لئے یہ ریاست کی آئینی ذمہ داری تھی کے وہ ان افراد کی حفاظت کو یقینی بناتی‘‘۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ سب کو علم تھا کہ گودھرا انتہائی حساس علاقہ ہے اس لئے حکومت کو ان حساس علاقوں کے تعلق سے کچھ اقدام لینے چاہئے تھے اور کم از کم ان علاقوں سے جہاں سے یہ ٹرین گزرنی تھی۔ فیصلے میں عدالت نے نوٹ کیا ہے کہ جو شواہد عدالت میں پیش کئے گئے ہیں ان سے یہ بات ظاہر نہیں ہوتی کہ ریاستی حکومت نے کچھ اقدام اٹھائے تھے۔ عدالت کی بینچ نے ریاستی حکومت کے ساتھ ریلوے کے ذمہ داران کو بھی اس معاملے میں برابر کی غفلت برتنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ اس معاملے میں ریاستی حکومت، وزارت ریلوے اور اس وقت کی مرکزی حکومت نے مسافروں کی حفاظت کے تعلق سے برابر کی غفلت برتی ہے ۔ واضح رہے 2002 میں ریاست کی باگ ڈور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھ میں تھی،ریلوے کے وزیر نتیش کمار تھے جو اب بہار میں بی جے پی کی مدد سے وزیر اعلی ہیں اور مرکز میں اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت تھی جس میں وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی تھے۔ اگر عدالت کے تبصرے پر غور کیا جائے تو یہ تبصرہ ان تمام شخصیات کے خلاف ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے نے ان تمام شخصیات پر سوال کھڑے کر دئے ہیں۔