کاس گنج فساد معاملے کی حقیقت کو فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کیا اجاگر

کاس گنج فساد معاملے کی حقیقت کو فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کیا اجاگر

کاس گنج فساد کے معاملہ میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے لکھنؤ کے پریس کلب میں حقائق پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ کئی اہم اراکین کےساتھ ریٹائرڈ آئی جی پولیس ایس آر داراپوری نے کاس گنج میں کی گئی تحقیق کےمطابق یہ واضح کیا ہے کہ 26 جنوری کو ہوا فساد منصوبہ بند تھا جسے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت برپا کیا گیا تھا۔ اس فساد میں شر پسندوں اور پولیس نے یک طرفہ کارروائی کی ہے اورایک مخصوص طبقےکو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا تو یہ ہے کہ گرفتاریوں کےمعاملے میں بھی اقلیتی طبقے کے لوگوں کو ہی زد و کوب کیا جا رہا  ہے۔واضح رہے کہ دو فروری کو ایک خصوصی ٹیم نےسابق آئی جی پولس کی سربراہی میں کاس گنج کا دورہ کیا تھا۔ اس ٹیم میں پولیس، وکیل، صحافی، سماجی کارکن اورعدلیہ کے ذمہ دار لوگ شامل تھے۔ سابق آئی جی پولیس کی جانب سے اس فساد سے متعلق تمام حقائق بیان کئے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں مسلمان جھنڈا سلامی کر رہے تھے، وہاں جب 150 سے زیادہ موٹر سائکل سوار پہنچے تو وہاں انہوں نے نعرے بازی کی، جس کے بعد دھکا مکی ہوئی ۔ وہ لوگ وہاں پچاس کے قریب موٹر سائکل چھوڑ کر بھاگ گئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد دوبارہ اکٹھا ہو کر تحصیل کے راستے فائرنگ کرتے آئے، جس پر وہاں راستے میں عوام نے پتھراؤ کیا، اسی بیچ پولیس نے بھی فائرنگ کی جس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  اسی  بیچ چندن کو گولی لگی۔ جسے اسپتال لے گئے تو اس کو مردہ بتایا گیا۔