معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک کو ملیشیا نے دی پناہ

معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک کو ملیشیا نے دی پناہ

معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک کو ملیشیا نے پناہ دیدی ہے ۔ ملیشیا کے نائب وزیر اعظم احمد زاہد حمید نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر نائیک کو پانچ سال پہلے پرماننٹ ریزیڈینسی دی گئی تھی ۔ تاہم انہوں نے مزید یہ بھی بتایاکہ ڈاکٹر نائک کو خاص سہولیات نہیں دی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں رہنے کے دوران ڈاکٹر نائک نے کسی بھی قانون کو نہیں توڑا ہے ، ایسے میں انہیں حراست میں لیا جانا یا گرفتار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔نائب وزیر اعظم احمد زاہد حمید مزید کہا کہ دہشت گردی کے سلسلہ میں ہندوستان کی جانب سے ملیشیا کی حکومت کو کوئی آفشیل درخواست نہیں ملی ہے۔ خیال رہے کہ کافی دنوں کے بعد ڈاکٹر نائک کو ملیشیا میں واقع اہم ترین مسجد میں دیکھا گیا تھا ۔ اس مسجد میں وہاں کے وزیر اعظم سمیت متعدد سینئر لیڈران اور سرکردہ شخصیات نماز ادا کرتی ہیں ۔خیال رہے کہ کچھ دنوں پہلے ہی ہندوستان کی تفتیشی ایجنسی این آئی اے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے ، جس میں ان پر کئی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں ۔ ذاکر نائیک کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 295۔اے (لوگوں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا)،8 (دیگر مذاپب پر حملہ) اور 505۔بی (لوگوں کو ریاست کے خلاف بھڑکانا) کے تحت چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں دہشت گردانہ حملہ کے بعد یکم جولائی، 2016 کونائیک کی تعلیمات سے انہیں مشتبہ شدت پسندوں کے متاثرہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ . بنگلہ دیش میں دعوی کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے میں ملوث افراد نائیک کی تقریر سے متاثر ہوئے تھے۔این آئی اے نے 18 نومبر، 2016 کو اپنی ممبئی میں نائک کے خلاف یواے پی اے قانون اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔