پھر تنازع میں پھنسے امریکی صدر ٹرمپ، مسلم مخالف ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرکے

پھر تنازع میں پھنسے امریکی صدر ٹرمپ، مسلم مخالف ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرکے

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر اپنی مسلم مخالف شبیہ کی وجہ سے تنازع کا شکار ہوگئے ہیں ۔اس مرتبہ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے ایک کے بعد ایک تین ایسے ٹویٹس کو ری ٹویٹ کیا ، جس میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز باتیں کہی گئی ہیں ۔خیال رہے کہ امریکہ کا صدر بننے کے کچھ دنوں بعد ہی ٹرمپ نے چھ مسلم ممالک سے آنے والے لوگوں پر پابندی عائد کردی تھی ۔ تاہم اس معامل پر کورٹ میں ان کی کافی کرکری بھی ہوئی تھی۔دراصل برطانیہ کی انتہائی دائیں بازو کی ایک تنظیم کی طرف سے مسلمانوں کے بارے میں تین اشتعال انگیز ویڈیوز جاری کئے گئے تھے ، جن کو امریکی صدر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔ ان ویڈیوز میں مبینہ طور پر مسلمانوں کو تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔پہلا ٹویٹ 'بریٹن فرسٹ نامی گروہ کے نائب رہنما جیڈا فرینسن کی طرف سے ٹویٹ کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک مسلم تارک وطن نے ایک معذور شخص پر حملہ کیا اور اس کی پٹائی کی ۔اس کے بعد فرینسن نے مزید دو ویڈیوز جاری کئے ۔ دوسرے ویڈیو میں دعوی کیا گی اہے کہ ایک مسلم شخص نے ورجن میری کے مجمسہ کوتوڑ دیا ۔علاوہ ازیں تیسرے شیئر کئے گئے پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی بیڑ نے ایک نوجوان کو چھٹ سے پھینک دیا اور مرنے تک اس کی پٹائی کرتے ہوئے ۔قابل ذکر ہے کہ برٹن فرسٹ کو انتہائی دائیں بازو کی جماعت برٹش نیشنل پارٹی کے ایک سابق رکن نے 2011 میں بنایا تھا۔یہ گروپ لگاتار سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف لکھتا رہتا ہے ، جس کی وجہ سے بہت جلد لوگوں کی اس کی طرف توجہ مبذول ہوگئی ۔ ان کے خیال میں برطانیہ کو اسلامی بنایا جا رہا ہے۔گروپ نے عام انتخابات میں بھی امیگریشن اور اسقاط حمل کے خلاف پالیسی کی بنیاد پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے ،لیکن اس کو وہاں پر منہ کی کھانی پڑی تھی اور اب تک اس کا ایک بھی امیدوار برطانوی دارالعوام کا رکن منتخب ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکاہے۔