جموں میں گائے کا کنکال ملنے پر روہنگیا پناہ گزینوں کو 11 دنوں تک حراست میں رکھا گیا

جموں میں گائے کا کنکال ملنے پر روہنگیا پناہ گزینوں کو 11 دنوں تک حراست میں رکھا گیا

جموں و کشمیر میں مقیم مظلوم مجبور روہنگیا مسلمانوں پر پولیس کے ذریعہ تشدد کے معاملہ کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جموں میں روہنگیا مسلمانوں کے ایک کیمپ کے ساتھ سے مبینہ طور پر ایک گائے کا کنکال پایا گیا ، جس کے بعد پولیس نے تھانہ لے جاکر دو خواتین سمیت 12 روہنگیا پناہ گزینوں کی بے رحمی سے پٹائی کی ۔ خیال رہے کہ میانمار میں بدھ شدت پسندوں اورا فواج کے ظلم و بربریت کا شکار ہونے کے بعد نقل مکانی کرکے آئے سینکڑوں روہنگیا مسلمان جموں میں پناہ گزیں کیمپوں میں زندگی گزاررہے ہیں۔ایک نابالغ روہنگیا پناہ گزین کے مطابق 10 ستمبر کو جموں کے سرحدی علاقہ میں واقع ایک تھانہ میں پولیس نے روہنگیا مسلمانوں کو ایک قطار میں کھڑا کرکے ان کی لاٹھی ڈنڈوں سے جم کر پٹائی کی ۔ پولیس ان نے صرف ایک ہی سوال پوچھ رہی تھی کہ گائے کو کس نے مارا ہے۔جموں کے جنوبی علاقہ کے چانی ہمت تھانہ میں پولیس نے دودھ پلانے والی دو خواتین سمیت 12 روہنگیا پناہ گزینوں کو 11 دنوں تک حراست میں رکھا اور ان کی شدید پٹائی بھی کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے کیمپ کے پاس ایک خالی پڑی زمین میں گائے کا کنکال پایا گیا تھا ، جس کے بعد بی جے پی کے لوگوں نے گئو کشی کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور کارروائی کی مانگ کی تھی۔سولہ سالہ سید نور کے مطابق تھانہ میں بچے چیختے چلاتے رہے ، مگر پولیس کو رحم نہیں آیا ۔ ان بچوں میں ایک چار دن کا نوزائیدہ بچہ بھی شامل تھا ۔ سید نور نے مزید بتایا کہ پولیس نے اس کو بھی آٹھ دنوں تک حراست میں رکھاایک اور پناہ گزیں 29 سالہ حامد حسین نے پولیس حراست میں اپنے دوسرے دن کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ہم چیخ چیخ کر پولیس کو بتا رہے تھے کہ ہم نے یہ کام نہیں کیا ، لیکن وہ ہمیں 15 منٹ تک بے رحمی سے پیٹتے رہے۔ حسین نے مزید بتایا کہ پولیس نے ہمیں فرش پر لٹا کر ہمارے ہاتھ ، پیر اور پیٹھ پر لاٹھی اور بیلٹ سے مارا ، انہوں نے ہمیں بہت ستایا ۔حراست میں لئے گئے پناہ گزینوں کے مطابق ان کو 96 سے 264 گھنٹے کی میعاد کے دوران چھوڑا گیا اور انہیں کبھی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ سی آر پی سی کی دفعات کے مطابق پولیس کسی بھی شخص کو 24 گھنٹوں سے زیادہ حراست میں نہیں رکھ سکتی ہے ۔ اس میعاد کے دوران پولیس کو اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوتا۔روہنگیا مسلمانوں کے کیمپ کے نزدیک رہنے والی ایک خاتون نے بھی پناہ گزینوں کو پولیس کے ذریعہ گرفتار کرکے لے جانے کی بات کہی ہے۔ پڑوس میں رہنے والی ایک 35 سالہ خاتون کے مطابق پولیس روہنگیا پناہ گزینوں کو گرفتار کرکے لے گئی تھی اور ان کو بھی تھانہ بلایا گیا تھا، لیکن جب انہوں نے خود کو ہندو بتایا تو پولیس نے ان کو چھوڑ دیا۔