پلینری اجلاس: اگلے پانچ سال کےایجنڈے پر غور ہوگا

پلینری اجلاس: اگلے پانچ سال کےایجنڈے پر غور ہوگا

کانگریس کے پلینری اجلاس کے باقاعدہ شروع ہونے سے ایک دن قبل سبجیکٹ کمیٹی کی میٹنگ میں چار قرارداد لانے پر فیصلہ ہوا۔ سبجیکٹ کمیٹی میں ویسے تو سیاست، خارجہ، اقتصادیات ، غربت، بے روزگاری اور کھیتی باڑی پر تفصیل سے غور و خوض ہوا لیکن اس میٹنگ سے ایک بات واضح ہو گئی کہ ملک میں سیاسی بدلاؤ حاصل کرنے کے لئے کانگریس اپنے اندر بھی بڑے بدلاؤ کی تیاری کر رہی ہے اور وہ اب قائد سے زیادہ کارکن پر اہمیت دینے کا ذہن بنا رہی ہے ۔ کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نےمیٹنگ کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ کانگریس صدر نے ہدایت دی ہے کہ اس پلینری اجلاس میں نوجوانوں، بلاک اور ضلع سطح پر کام کرنے والے کارکنان کی ان قرارداد پر رائے لی جائے تاکہ اگر ان میں کچھ اور تصحیح کی جا سکے تو اس کو کیا جائے۔ اس لئے کانگریس کا یہ پلینری اجلاس صحیح معنوں میں کارکنان کا اجلاس ہوگایعنی یہ ’ورکرس پلینری‘ ہوگا۔ پارٹی کا مرکز اب کارکن ہوگا نہ کے قائد۔ سو سال کی اپنی تاریخ میں یہ پلینری کئی معنوں میں نئی طرح کی تاریخ رقم کرے گا‘‘۔انڈئن نیشنل کانگریس پارٹی کی سبجیکٹ کمیٹی یعنی موضوع پر غور کرنے والی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں کانگریس قانون ساز پارٹی کے قائد ،ریاستی صدور ، پارلیمانی کمیٹی کے تمام عہدیداران، فرنٹل آرگنائزیشن کے صدور اور مختلف موضوعات کے لئے تشکیل دی گئیں سب کمیٹیوں کے صدور رکن ہیں ۔ راہل گاندھی کی قیادت میں ہوئی سبجیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ کانگریس پارٹی چار قرارداد لے کر آئے گی اور ان تمام قرارداد پر ارکان نے تفصیل سے غور کیا۔ چار قراردادوں میں سیاسی قرارداد، خارجہ پالیسی پر قرارداد، اقتصادیات پر قرارداد، کھیتی باڑی، روزگار اور غربت ختم کرنے پر ایک قراردا د شامل ہیں۔ تقریبا 60سے70 ارکان نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بہت سارے تعمیری سجھاؤ بھی دئے۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے کمیٹی کے صدور کو یہ ہدایت دی کہ سارے مشوروں کو اس میں شامل کر کے کل کانگریس کے پلینری اجلاس میں پیش کریں ۔واضح رہے کانگریس کا یہ پلینری اجلاس آئندہ پانچ سالوں تک کانگریس کی سمت، اس کی سوچ اور آئندہ کے راستے پر غور کرے گا ۔ سرجے والا نے کہا کہ ’’ چاہے کھیتی باڑی ہو، چاہے روزگار ہو، چاہے غربت کا خاتمہ ہو، چاہے قومی سلامتی ہو، چاہے خارجہ پالیسی ہو، چاہے اقتصادیات ہو اور چاہے سیاسی سمت اور حالات ہو ان کو لے کر موجودہ حالات کیا ہیں، مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا ، مستقبل میں ان موضوعات کو آگے لے جانے کے لئے کانگریس کیا کوشش کرے گی، ملک کے کسانوں کی تکالیف کو کیسے حل کرے گی، کس طرح سے روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، ٖغربت کے خاتمہ کےلئے کیا قدم اٹھائے جائیں گے، ملک کی اقتصادیات جو آج مودی حکومت کے دور میں اوندھے منہ گر پڑی ہے اس میں سدھار کیسے لایا جائے گا، مثبت اور تعمیری سدھار جو لائن کے آخری فرد تک جائے اس کو کیسے لایا جائے گا ان سب موضوعات پر پلینری اجلاس میں تفصیل سے غور ہو گا‘‘۔یہ چاروں قرارداد کانگریس کے پلینری اجلاس میں کل پیش کی جائیں گی جن میں سے دو پر کل غور ہوگا اور دو پر اتوار کو غور ہوگا۔ کل صبح کانگریس صدر پلینری سے خطاب کریں گے اور شام کو تین بجے سونیا گاندھی اجلاس سے خطاب کریں گی ۔ اس اجلاس میں یہ تصویر بھی صاف ہو جاے گی کہ پارٹی میں سونیا گاندھی کا اب کیا کردار رہے گا۔