سی جے آئی کے خلاف مواخذے کی تیاری، اپوزیشن نے نائب صدر کو سونپا ڈرافٹ

سی جے آئی کے خلاف مواخذے کی تیاری، اپوزیشن نے نائب صدر کو سونپا ڈرافٹ

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (سی جے آئی )کے خلاف مواخذے کی تجویز لانے کیلئے کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن نے سی جے آئی کے خلاف مواخذے کا ڈرافٹ تیار کر لیا ہے۔ سی جے آئی دیپک مشرا کےخلاف مواخذے کی کارروائی کے نوٹس پر سات سیاسی پارٹیوں کے 71 ارکان پارلیمنٹ  نے دستخط بھی لر دئے ہیں۔جس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے نائب صدر وینکیا نائیڈو سے ملاقات کی اور انہٰں مواخذے کا ڈرافٹ سونپا۔نائب صدر سے ملاقات کے بعد لیڈر غلام نبی آزاد اور کپل سبل نے پریس کانفرنس کی۔آزاد نے کہا کہ سی جے آئی دیپک مشرا کے خلاف پانچ بندوؤں پر مواخذے کی تجویز تیار کیگئی ہے۔سات پارٹیوں کے 71 ارکان پارلیمنٹ نے اس پر دستخط کر دئے ہیں۔عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبدارو جمہوریت کی سکیورٹی کیلئے مواخذے کی تجویز لائی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ نائب صدر اسے قبول کریں گے۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ ،'مواخذے کی تجویز پر جن 71 ارکان پارلیمںٹ نے دستخط کئے ہیں، ان میں 7 ریٹائر ہو چکے ہیں۔ حالانکہ پھر بھی یہ ضروری تعداد سے زیادہ ہیں'۔وہیں کانگریس لیڈر کپل سبل نے کہا،'آئین کےتحت اگر کوئی جج غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو پارلیمنٹ کا حق ہے کہ اس کی جانچ ہونی چاہئے'۔ سبل کے مطابق 'جب سے دیپک مشرا چیف جسٹس بنے ہیں تبھی سے کچھ ایسے فیصلے لئے گئے ہیں جو کہ صحیح نہیں ہیں۔اس کے بارے میں سپریم کورٹ کے ہی چار ججوں نے پریس کانفرنس بھی کی تھی'۔کانگریس لیڈر کپل سبل نے کہا 'جس ملک کی عوام سپریم کورٹ پر اتنا بھروسہ کرتی ہے، تو اس کے چیف جسٹس کو بھی اپنے عہدے کا احترام کرنا چاہئے۔ لیکن افسوس ہے کہ سی جے آئی دیپک مشرا کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ اس لئے ہمارے پاس مواخذہ لانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا'۔ وہیں سپریم کورٹ نے سی جے آئی پر مواخذے چلانے کے متعلق لوگوں کے وفد سمیت دیگر لوگوں کے عام بیانوں کو بے حد بدقسمتی بتایا ہے۔ جسٹس اے کے سکری اور جسٹس اشوک بھوشن کی بینچ نے کہا،'ہم سبھی اسے لیکر بہت حیران ہیں'۔،ذرائع کے مطابق ،پارلیمنٹ کے  احاطہ ہوئی میٹنگ غلام نبی آزاد ،کے ٹی ایس تلسی ابھیشیک منو سنگھوی، این سی پی کی وندنا چوہان، سی پی آئی کے ڈی راجا شامل رہے۔حالانکہ آر جے ڈی اور ٹی ایم سی ابھی مواخذے تجویز کی مہم سے دوری اختیار کئے ہوئےہیں۔سی بی آئی اسپیشل کورٹ کے جج بی بی ایچ لویا کی موت کی ایس آئی ٹی جانچ کے مطالبہ  والی سبھی عرضیوں کے سپریم کورٹ میں خارج ہونے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں سی جے آئی دیپک مشرا پر مواخذے تجویذ لانے کو  لے کر میٹنگ بلائی۔ بتادیں کہ سپریم کورٹ میں جج لویا کیس کے معاملے کی سماعت کی سی جے آئی دیپک مشرا کی قیادت والی تین رکنی بینچ کر رہی تھی۔دراصل اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس سی جے آئی کو عہدے سے ہٹانے کو لیکر لئے باقی پارٹیوں کو ایک ساتھ لانے کی کوشش میں مصروف ہے۔جہاں لیفٹ،این سی پی اور کانگریس سی جے آئی کو ہٹانے کیلئے ڈرافٹ لانے پر متفق پیں۔وہیں ابھی کچھ دیگر پارٹیوں کے ساتھ بات نہیں بن پائی ہے۔جنوری میں جب سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے عدالتی بے ترتیب کے مڈ نظر پریس کانفرنس کی تھی۔اس کے پہلے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ سی جے آئی پر اس طرح سے الزام لگ سکتے ہیں۔اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سی جے آئی کو دیگر ججوں کی طرح مواخذہ تجویز سے ہٹایا جاسکتا ہے یا پھر اس کیلئے کوئی دوسرا راستہ ہے۔؟دراصل،ہندستان کی عدالتی نظام کی تاریخ میں اب تک کسی بھی جج پر موخذہ نہ لگاھا۔سی جے آئی کے معاملے میںیہ کتنا الگ ہوگا؟کسی بھی جج یا سی جے آئی کے خلاف مواخذہ تجویز لانے کیلئے لوک سبھا میں 100 ارکان پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا میں 50 ارکان اسمبلی کے دستخط کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کی تجویز پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں رکھی جا سکتی ہے۔مواخذہ اگر راجیہ سبھامیں لایا جا رہا ہے تو صدر کو اس کی تجویز سونپنی ہوتی ہے۔ لوک سبھا میں مواخذہ لانے کی حالت میں اس سے متعلق تجویز لوک سبھا اسپیکر کو سونپی جاتی ہے۔اس کے بعد راجیہ سبھا صدر یا لوک سبھا صدر پر منحصر ہے کہ وہ اس تجویز کو قبول کرے یا خارج کردیں۔اگر راجیہ سبھا صدر یا لوک سبھا صدر تجویز کو قبول کر لیتے ہیں تو ملزم کی جانچ کیلئے تین رکنی کمیٹی  کا قیام کیا جاتا ہے۔اس کمیٹی میں ایک سپریم کورٹ کاجج ،ایک ہائی کورٹ کا چیف جسٹس اور ایک قانون ساز شامل ہوتا ہے۔جانچ کے بعد کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرتی ہے۔ اگر متعلقہ جج کو قصوروار پایا جاتا ہے تو مواخذہ ایوان میں رکھاجاتا ہے۔ اس تجویز کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں دو تیہائی اکثریت سے حمایت ملنے کےبعد اسے صدر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔اس کے بعد آخری اختیار صدر کے پاس ہی ہے۔ صدر چاہیں تو اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس کو عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔