پٹاخہ پابندی پر بھڑکے چیتن بھگت

پٹاخہ پابندی پر بھڑکے چیتن بھگت

سپریم کورٹ نے پیر کے روز قومی دارالحکومت اور این سی آر میں اس دیوالی پر پٹاخوں کی فروخت پر پابندی لگا دی۔  سپریم کورٹ نے یکم نومبرتک اس کی فروخت پر مکمل پابندی لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ایک عرضی پر سماعت کے دوران اپنے ستمبر کے حکم میں فوری طور پر ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ یکم نومبر تک قومی دارالحکومت علاقہ میں پٹاخوں کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جا تی ہے۔عدالت نے کہا کہ وہ دیکھنا چاہتی ہے کہ پٹاخوں کی فروخت پر مکمل پابندی سے ماحول پر کسی طرح کا کوئی خاص فرق پڑتا ہے یا نہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ عدالت نے پٹاخوں کی فروخت کے لئے قبل میں جاری اپنے حکم میں مشروط اجازت دی تھی، جس کے خلاف اس فیصلے پردوبارہ غورکرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔دیوالی سے ٹھیک پہلے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے لوگ حیران ہیں۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ پٹاخوں کے بغیر دیوالی کس طرح منائی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر اس فیصلہ پر کافی بحث ہو رہی ہے۔ اس بحث میں مشہور انگریزی مصنف اور فلم ساز چیتن بھگت بھی کود پڑے ہیں۔ انہوں نے کئی ٹویٹ کر کے اس فیصلہ پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ کیا کسی اور مذہب کے ان تیوہاروں پر بھی روک لگے گی جن میں خون بہایا جاتا ہے اور تشدد ہوتا ہے۔اپنے پہلے ٹویٹ میں چیتن بھگت لکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے دیوالی میں پٹاخے پھوڑنے پر روک لگا دی ہے؟ پوری طرح سے روک؟ بچوں کے لئے بغیر پٹاخوں کے کیسی دیوالی؟ اپنے اگلے ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ کیا میں پٹاخوں پر پابندی پر پوچھ سکتا ہوں؟ ہندووں کے تہواروں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا بکرے کاٹنے اور محرم میں خون بہانے پر پابندی عائد ہونے جا رہی ہے؟