پوسکو ایکٹ میں تبدیلی کو منظوری، اب 12 سال سے کم عمر کی بچیوں سے ریپ پر موت کی سزا

پوسکو ایکٹ میں تبدیلی کو منظوری، اب 12 سال سے کم عمر کی بچیوں سے ریپ پر موت کی سزا

وزیراعظم کی رہائش گاہ پر بچوں کے ساتھ ہوئے جنسی استحصال معاملے میں ترمیم کے لئے کرمنل لا  امینڈمنٹ ایکٹ 2018 کابینہ میں منظور ہوگیا ہے۔ تقریباً تین گھنٹے چلی میٹنگ میں مختار عباس نقوی، اوما بھارتی اور اسمرتی ایرانی، پیوش گوئل، جے پی نڈا، روی شنکر پرساد، ڈاکٹر ہرش وردھن بھی موجود تھے۔مرکزی کابینہ کی میٹنگ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر بلائی گئی تھی۔ اس میٹنگ میں پوکسو ایکٹ  (POCSO Act) میں ترمیم  اور آرڈیننس لانے پر غوروخوض کیا گیا۔ پوسکو ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ 12 سال کی کم عمر کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری پر زیادہ سے زیادہ موت کی سزا کرنے پر کابینہ میٹنگ میں بحث کی گئی۔ اس میٹنگ میں فیوزیٹیوافینڈرس بل 2018 پر بھی آرڈیننس کی شکل میں بحث کی گئی۔ واضح رہے کہ یہ پارلیمنٹ میں ابھی زیر غور ہے۔سپریم کورٹ کو جواب دیتے ہوئے حکومت نے بتایا کہ وہ پوکسوایکٹ میں ترمیم کی تیاری کررہی ہے۔ اس ایکٹ میں تبدیلی کے بعد 12-0 سال کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری اور جرم کے معاملے میں اب موت کی سزا کی تجویز کی جارہی ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت 27 اپریل مقرر کی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق پوکسو ایکٹ میں ترمیم کو لے کر سپریم کورٹ میں عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کورٹ نے حکومت سے پوچھا تھا کہ وہ بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میں ہورہے اضافہ کو روکنے کے لئے قانون میں کس طرح کی تبدیلی کررہی ہے۔ اس پر حکومت نے بتایا تھا کہ پوکسو ایکٹ میں ترمیمی عمل شروع کرنے پر غور کیاجارہا ہے۔ اس ترمیم کے بعد 12-0 سال کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری اور جرائم کے معاملوں میں اب موت کی سزا کی تجویز کی جارہی ہے۔بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرائی (چائلڈ رائٹس اینڈ یو) کے مطابق ہندوستان میں ہر 15منٹ میں ایک بچہ جنسی استحصال کا شکار ہوتا ہے اور گذشتہ 10 سالوں میں نابالغ کے خلاف جرائم میں 500 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے معاملوں میں سے 50 فیصد سے بھی زیادہ محض پانچ ریاستوں میں درج کئے گئے۔ ان ریاستوں میں ا ترپردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، دہلی اور مغربی بنگال شامل ہیں۔  اس میں کہاگیا ہے کہ گذشتہ 10 سالوں میں نابالغوں کے خلاف جرائم میں 500 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا ہے اور 2016 میں 1,06,958 معاملے سامنے آئے جبکہ 2006 میں یہ تعداد 18,967 تھی۔