سنسنی خیز انکشاف:ان غلطیوں کا فائدہ اٹھاکر پاکستانی دہشت گرد نوید جٹ فرار ہوگیا

سنسنی خیز انکشاف:ان غلطیوں کا فائدہ اٹھاکر پاکستانی دہشت گرد نوید جٹ فرار ہوگیا

لشکر طیبہ کے خطرناک دہشت گرد محمد نوید جٹ کے ایک بھیڑ بھاڑ والے علاقہ میں واقع اسپتال سے فرار ہونے کے معاملہ میں جانچ کے دوران مختلف مراحل میں کوتاہی سامنے آئی ہے ۔ خاص طور پر جموں و کشمیر پولیس کی پروسیکیوشن یونٹ اور محکمہ داخلہ کی ناکامیاں اجاگر ہوئی ہیں ، جنہوں نے جموں کے کٹھوعہ سے ملزم کو یہاں سینٹرل جیل میں منتقل کرنے کیلئے حکم جاری کرنے میں جلد بازی دکھائی تھی۔ایس ایم ایچ ایس اسپتال سے 22 سالہ نوید کے چھ فروری کو فرار ہونے کی کڑیوں کو جوڑنے کے دوران یہ پایا گیا ہے کہ ملزم نے سری نگر میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ایک رکنی بینچ کے سامنے ایک عرضی داخل کی تھی ، جس پر عدالت نے 19نومبر 2016 کو حکم دیا تھا کہ اچھا ہو، اسے کشمیر ڈویزن کی کسی جیل میں رکھا جائے ۔ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد ریاست کے محکمہ داخلہ نے 27 جنوری 2017 کو حکم جاری کرکے عدالت کے حکم کی تعمیل کرنے کی ہدایت دی اور نوید کو فوری طور پر کٹھوعہ جیل سے سری نگر کی سینٹرل میں منتقل کرنے کیلئے کہا ۔ پاکستانی شہری نوید دراندازی کرکے 2014 میں وادی کشمیر میں داخل ہوا تھا اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک افسر نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ نوید کے معاملہ میں غیر ضروری جلد بازی دکھائی گئی ، ایسے دہشت گرد کے خلاف آسانی سے پبلک سیکورٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرکے اسے وادی کشمیر سے باہر کی جیل میں بند رکھا جاسکتا تھا۔دہشت گردی سے وابستہ معاملات کو دیکھ رہے اس افسر نے کہا کہ ایک دوسرا طریقہ جو اپنایا جاسکتا تھا ، وہ ہائی کورٹ کی ایک رکنی بینچ کے حکم کو چیلنج کرنا تھا اور اس کیلئے یہ دلیل دی جاسکتی تھی کہ اسے دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جانا چاہئے کیونکہ وہ مرنے اور مارنے پر آمادہ ہے۔