حج پر جانے والے بزرگوں کو اب  نہی ملیگی راحت

حج پر جانے والے بزرگوں کو اب  نہی ملیگی راحت

نئی حج پالیسی تیار کرنے کے لئے افضل امان اللہ کی قیادت میں جو پانچ رکنی جائزہ کمیٹی تشکیل دی تھی اگر اس کی تجاویز منظور کر لی جاتی ہیں تو اس سال ان کئی شہروں سے حجاج نہیں جا سکتے ،جہاں سے حجاج گزشتہ سال تک جاتے رہے ہیں۔ کمیٹی کی تجویز ہے کہ ملک کے 21امبارکیشن پوائنٹ کو کم کر کے 9 امبارکیشن پوائنٹ کر دئے جائیں یعنی کشمیر کے حاجیوں کو اب سفر حج پر جانے کے لئے دہلی آنا پڑے گا اسی طرح راجستھان کے حاجیوں کو بھی دہلی آنا پڑے گا اور وارانسی سے جانے والے حجاج کو اب لکھنؤ سےجانا پڑے گا ۔ اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ کچھ امبارکیشن پوائنٹ سے پرواز کا کرایا بہت زیادہ پڑ جاتا ہے کیونکہ وہاں پر ضروری انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ جیسے شری نگر سے جانے والے حاجی کو حج پر جانے کے سفر کا کرایہ اس سال 1,03,247 روپے تھا ، گیا سے 1,06,868روپے تھا جبکہ دہلی سے کرایہ 68,343روپے اور ممبئی جہاں سب سے کم کرایہ ہے وہاں سے جانے والے حاجی کو محض 53,700روپے ادا کرنے پڑے تھے ۔ اس کی وجہ سے کچھ ریاستوں کے حجاج کو زیادہ سبسڈی کا حصہ دینا پڑتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے سال 2012 میں مرکز سے دس سال یعنی 2022تک مرحلہ وار سبسڈی ختم کرنے کے لئے کہا تھا جس کی وجہ سے اب تک 50فیصد تک سبسڈی ختم ہو چکی ہے۔16 بڑی تجاویز میں سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ 70سال سے زیادہ عمر والے خواہش مندگان کو قرعہ میں شامل کئے بغیر جو سیدھے ان کی درخواستیں لے لی جاتی تھیں اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اب اس پالیسی کو ختم کر نے کی سفارش کی گئی ہے ۔ اسی طرح گزشتہ 4سال سے مستقل حج کے لئے درخواست دینے والوں کی درخواست بھی قرعہ میں شامل کئے بغیر جو سیدھے قبول کر لی جاتی تھیں اس کو بھی ختم کیا جائے ۔ یعنی 70سال سےزیادہ عمر والے حجاج کے لئے کوئی راحت نہیں اور ان کو بھی عام حاجیوں کی طرح انتظار کر نا پڑے گا۔ اسی طرح جو حجاج اس لئے بے فکر تھے کہ وہ گزشتہ 4سال سے درخواست دے رہے ہیں اس لئے اس بار تو ان کا حج پر جانا یقینی ہے تو ان کے لئے بھی یہ تجویز کسی بری خبر سے کم نہیں ہے۔کمیٹی کی اہم تجویز یہ بھی ہے کہ ابھی تک جو قانون تھا کہ کوئی بھی خاتون بغیر محرم کے حج پر نہیں جا سکتی اب اس میں تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے ۔ نئی تجویز کے مطابق 45سال سے زیادہ عمر والی خواتین کو چار یا زیادہ کے گروپ میں بغیر محرم کے حج پر جانے کی اجازت ہوگی ۔ کمیٹی کے رکن کمال فاروقی کا کہنا ہے کہ ’’ دنیا کے کئی ممالک اور کئی مسالک فکر اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ خواتین بغیر محرم کے حج ادا کر سکتی ہیں ۔ خود سعودی عرب میں اس کی اجازت ہے۔ اہل تشیع اور اہل حدیث حضرات کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ ہم نے تجویز میں کہا ہے کہ اگر خاتون کا مسلک فکر اجازت دیتا ہے تو ہی وہ جا سکتی ہیں ‘‘ ادھر جامع مسجد دہلی کے شاہی امام احمد بخاری اس تجویز سے سخت برہم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’’ اسلام میں کسی خاتون کا محرم کے بغیر سفر کرنا ممنوع ہے لیکن حج جیسے فرض کی ادائیگی کے لئے شریعت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس پر اپنا موقف واضح کرنا چاہئے‘‘۔ ایک طرف جہاں دیوبند میں اس تجویز کی مخالفت ہو رہی ہے وہیں عام مسلمانو ں میں ایک بے چینی بھی ضرور نظر آ رہی ہے ۔ مسلم سماج اس مدےپر اسی طرح منقسم نظر آ رہا ہے جیسے طلاق ثلاثہ پر نظر آیا تھا۔