آسام غیر ملکی شہریت معاملے میں 26 لاکھ خواتین کی شہریت پر خطرہ اب بھی برقرار

آسام غیر ملکی شہریت معاملے میں 26 لاکھ خواتین کی شہریت پر خطرہ اب بھی برقرار

سپریم کورٹ نے آسام غیر ملکی شہریت معاملہ میں اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کوہدایت دی ہے کہ وہ عدالت میں جواب داخل کر کے بتائے کہ ایسی 26لاکھ خواتین جن کا پنچایت سرٹیفکیٹ رد کر دیا گیا اور وہ ’’خصوصی کیٹگری ‘‘ میں بھی شامل نہیں ہیں ، ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔ اس معاملے میں آئندہ سماعت اب15نومبر کو ہوگی ۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے جمعیۃ علما ہند کی اس خصوصی درخواست کو منظور کر لیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ’خصوصی کیٹگری‘ میں کسے شامل کیا جائے اور کسے نہیں اس کی باقاعدہ گائیڈ لائن تیار کی جانی چاہئے۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے خصوصی کیٹگری کے لئے گائیڈ لائن مقرر کئے جانے کی درخواست قبول کئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے خصوصی کیٹگری میں ان ہی افراد کو شامل کیا جائے گا جو ا سکے جائز حقدار ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ابھی جن 26لاکھ خواتین کے سر پرغیر ملکی شہریت کی تلوار لٹک رہی ہے، عدالت ا سکے حل کا بھی کوئی قابل قبول حل تلاش کرے گی۔عدالت عالیہ میں جسٹس گوگوئی اورجسٹس سنہا کی بنچ کے سامنے آسام غیر ملکی شہریت معاملہ پر سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران عدالت نے تین اہم باتیں کہیں۔عدالت نے جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی جانب سے داخل ا س خصوصی درخواست کو منظور کر لیا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ آسام میں شہریت تنازع معاملہ حل کرنے کے تعلق سے جوایک خصوصی کیٹگری ( اصل مقیم) پالیسی تیار کی گئی ہے ۔ ا سکے تعلق سے کوئی گائیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی ہے کہ آیا اس کیٹگری میں کس کو شامل کیا جانا چاہئے اور کسے نہیں ۔ جمعیۃ کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ اس سلسلے میں گائیڈلائن مقرر کرے ۔ عدالت نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے اس پر 15نومبر کوبحث کی بات کہی ہے ۔ دوسری اہم یہ بات رہی کہ اس مقدمہ میں مداخلت کار کے طور پر شامل ہونے کی آسام کانگریس کمیٹی کی درخواست کو عدالت نے نا منظور کر دیا ۔ ابھی یہ مقدمہ جمعیۃ علما ہند ، آمسو اور دیگر آسامی تنظیمیں لڑ رہی ہیں ۔