الہ آباد ہائی کورٹ نے آروشی۔ ہیمراج قتل معاملے میں راجیش تلوار اور نوپور تلوار کو کیا بری

 الہ آباد ہائی کورٹ نے آروشی۔ ہیمراج قتل معاملے میں راجیش تلوار اور نوپور تلوار کو کیا بری

الہ آباد ہائی کورٹ نے آروشی اورہیمراج  کے قتل کے ملزم ڈاکٹر راجیش تلوار اور نوپور تلوار کو شواہد کے فقدان میں بری کردیا۔ جسٹس وی کے نارائن اور جسٹس اے کے مترا کی بنچ نے آروشی کے والدین نوپور تلوار اورراجیش تلوار کو اپنی بیٹی کے قتل کے الزام سے بری کردیا ۔ اس معاملے میں عدالت عالیہ نے نچلی عدالت سے سنائی گئی سزا کو منسوخ کردیا۔سال قبل ہوئے اس قتل میں سی بی آئی کی عدالت نے دونوں ملزمین کو عمر قید کی سزا اور بالترتیب سترہ ہزار روپے اور پندرہ ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ دونوں نے اس فیصلے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ عدالت نے اس معاملے میں گذشتہ سات ستمبر کو دونوں فریقین کے وکیلوں کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔دانتوں کے ڈاکٹر راجیش تلوار اور نوپور تلوار کی چودہ سالہ بیٹی آروشی اور ان کے گھریلو نوکر ہیمراج کا نوئیڈا میں جل وایو وہار کے ایل 32 فلیٹ میں 15-16 مئی 2008 کی رات قتل کردیا گیا تھا۔ اس معاملے میں نوئیڈا پولیس نے جانچ کے بعد آروشی کے والد راجیش تلوار اور نوپور تلوار کو نامزد کیا تھا ۔ اس معاملے میں 23مئی 2008 کو راجیش تلوار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت کی وزیر اعلی مایاوتی نے 29مئی کو دوہرے قتل کی انکوائری سی بی آئی سے کرانے کی سفارش کی تھی ۔ جون 2008میں سی بی آئی نے جانچ شروع کرکے ایف آئی آر درج کی۔ 30ماہ تک چلنے والی جانچ کے بعد سی بی آئی نے سال 2010 میں عدالت کو کلوزر رپورٹ سونپ دی تھی۔اس معاملے کی رپورٹ خصوصی جوڈیشل مجسٹریت پریتی سنگھ کی عدالت میں جائزہ کے لئے بھیجی گئی ۔ پریتی سنگھ نے سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا اور دوبارہ جانچ کے احکامات دئے۔اس قتل کی جانچ سی بی آئی نے اپنے سینئر افسر اے جی ایل کول کو سونپی۔ کول اور ان کی پوری ٹیم نے اس معاملے کی جانچ رپورٹ غازی آباد میں خصوصی طور پر قائم سی بی آئی عدالت میں دوبارہ داخل کی ۔ جج شیام لال کی عدالت میں سی بی آئی کی ٹیم نے 39افراد کو بطور گواہ پیش کیا جب کہ دفاع کی طرف سے صرف سات گواہ سامنے آئے۔ عدالت میں آروشی کے والدین راجیش تلوار اور نوپور تلوار دونوں پر تعزیرات ہند کی دفعہ 302/34 ، 201 کے تحت مقدم چلایا گیا۔ اس کے علاوہ آروشی کے والد ڈاکٹر تلوار پر ایک دیگر دفعہ 203 (فرضی رپورٹ درج کرنے) کے تحت مقدمہ بھی چلایا گیا۔غازی آباد کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے آروشی ہیم راج قتل میں آروشی کے والدین راجیش تلوار او رنوپور تلوار کو قصور وار ٹھہرایا ۔ جج شیام لال نے 26نومبر 2013 کو اس معاملے میں تلوار جوڑے کو عمر قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف اس جوڑے نے الہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ۔ ہائی کورٹ نے شواہد کے فقدان میں آروشی کے والدین راجیش تلوار اور نوپور تلوار کو بری کردیا۔