نوٹ بندی کے بعد نقلی کرنسی کے لین دین میں 5 گنا اضافہ

 نوٹ بندی کے بعد نقلی کرنسی کے لین دین میں 5 گنا اضافہ

ملک کے بینکوں نے ابھی تک کے سب سے زیادہ نقلی نوٹ پکڑے ہیں۔ ساتھ ہی نوٹ بندی کے بعد مشتبہ لین دین میں 480فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب نوٹ بندی کے بعد مشکوک جمع نوٹوں پر تیار کی گئی ایک سرکاری رپورٹ میں پتہ چلا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ ، پبلک اور کوآپریٹیو سیکٹر سمیت سبھی بینکوں اور دیگر فائنانشیل انسٹی ٹیوشن نے مشترکہ طور پر 2017-2016 میں 400فیصدی زیادہ مشکوک لین دین کی رپورٹ کی ہے۔ ایسے ٹرانجکشن کی تعداد 4.73 لاکھ ہے۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ مرکزی وزارت خزانہ کی فائنانشیل انٹیلی جنس یونٹ (ایف آئی یو) نے تیار کی ہے۔مرکزی وزارت خزانہ کی فائنانشیل انٹلی جنس یونٹ (ایف آئی یو) نے اپنی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ بینکنگ اور دیگر مالیاتئ چینلوں میں جعلی کرنسی کے لین دین میں  گذشتہ سال کے مقابلے 2017-2016  کے دوران 3.22 لاکھ  معاملے زیادہ سامنے آئے ہیں۔مالی سال  2016-2015 میں جعلی کرنسی کے کل 4.10لاکھ معاملے رپورٹ ہوئے تھے۔ وہیں  2017-2016  میں ان کی  تعداد بڑھ کر 7.33لاکھ ہوگئی۔ نقلی نوٹوں پر یہ تازہ اعدادوشمار ابھی تک کا سب سے زیادہ ہے۔جعلی کرنسی کے لئے رپورٹ کے اعدادوشمار کو مرتب کرنے کا کام سب سے پہلے مالی سال  2009-2008 میں شروع کی گئی تھی۔مالی سال  2017-2016  میں مشکوک لین دین رپورٹ میں 4،73،006 معاملے سامنے آئے، جو  2016-2015  کے مقابلے چارگنا زیادہ ہے۔