اسپتال کی گیر زمدارانہ حرکت نے زندہ بچے کو مردہ قرار دیا

 اسپتال کی گیر زمدارانہ حرکت نے زندہ بچے کو مردہ قرار دیا

دلہی کے ایک بڑے اسپتال کی گیر زمےدارانہ حرکت  نے ایک نوجات بچے کو مرا ہوا قرار دے دیا –مگر جب پروروں کے لوگو نے بچے کے انتم سنسکار سے پہلے اسے زندہ پایا –یہ واقعی صفدر گنج اسپتال میں پیش آیا ہے جہاں بدر پر کی ایک کوتین نے ایک بچے کو جنم دیا  اسپتال میں کام کر رہے نرس کو بچے میں کوئی حرکت نہیں نظر آیی – بچھے کے والد نے بتایا کی نرس نے بچے کو مرا ہوا بتا کر اسپر موھر لگا کر بچا انھ تھما دیا –بچے کی ماں کی بھی حالت ٹیک نہیں تھی اسلئے وو اسپتال میں ہی بھرتی ہے جبکی باکی پورا پریوار بچے کی انتم سنسکار کے لئے گھر آگے اور بچے کی بدی کی بھی  تیاری  شرو کر دی –کچھ دیر ہو جانے کے بعد روہت کی بھن نے بچے می کچھ حرکت محسوس کی اور جب اسے اسے کھولا گیا تو بچے کی دھکرن چل رہی تھی اور وہ اپنے ہاتھ پاؤ کو جمبش دے رہا تھا –اس لاپرواہی کے معملے کو مدےنظر رکھتے ہے صفدر گنج اسپتال پرسھاشن  نے معملے پر  تحقکات کرانے کی ہدایت دی ہے