بھوپال: 118 مساجد اور 12 مزارات کے وجود پر خطرہ ، محکمہ ریوینیو نے بتایا غیر قانونی

بھوپال: 118 مساجد اور 12 مزارات کے وجود پر خطرہ ، محکمہ ریوینیو نے بتایا غیر قانونی

بھوپال کی تاریخی مسجدوں اور مندروں کے وجود پر خطرہ منڈلارہا ہے۔ محکمہ ریوینو نے اپنی رپورٹ میں بھوپال ضلع کی 118 مساجد کے ساتھ ایک ہزار سے زائد مندروں کو غیر قانونی تعمیر کے زمرے میں شامل کیا ہے۔انتخابی سال میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی ناراضگی شیوراج حکومت کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے ۔بھوپال کو نوابوں کی نگری کہا جاتا ہے ۔ اس کے امتیازات میں جہاں قدرت کا حسن شامل ہے ، وہیں اسے مسجدوں اور مندروں کا بھی شہر کہا جاتا ہے۔ لیکن مسجدوں  اور مندروں کے اس شہر کی ایک بڑی مذہبی عمارتوں کو محکمہ ریوینو کی رپورٹ میں غیر قانونی بتانے سے یہاں کے مسلمان اور ہندوکے ساتھ ساتھ سکھ سماج اور عیسائی بھی ناراض ہیں۔بھوپال میں یہ تنازع 2011 میں شروع ہوا تھا ، جس پر مسلم کوآرڈینیشن کمیٹی نے مختلف محکموں میں آرٹی آئی ایکٹ کے معلومات مانگی ، لیکن اب تک انہیں معلومات فراہم نہیں کی گئی ۔محکمہ ریوینو نے صوبہ کے تمام اضلاع سے غیر قانونی طور پر تعمیرکرائی گئی مذہبی عبادت گاہوں کی جو فہرست جاری کی تھی ، اس میں بھوپال ضلع کی سات تحصیلوں میں 1262 مندر،118 مساجد ،12 مزارات،سات گردوارہ اور تین چرچ کے نام شامل ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ محکمہ ریوینو نے غیر قانونی طور پر تعمیر مذہبی مقامات میں بھوپال کی ان مسجدوں اور مندروں کو بھی شامل کر لیا ہے جن کی تعمیر نوابی عہد میں ہوئی تھی۔ جبکہ تاریخ میں درج ہے کہ بھوپال کی تاریخی مسجد کلثوم بی کی تعمیر 1836 ،موتی مسجد کی تعمیر 1862 اور صوفیا مسجد کی تعمیر 1942 میں ہوئی تھی۔مذہبی مقامات کی سرکاری زمینوں پر کئی گئی غیر قانونی تعمیر کو لے کر تین مئی کو محکمہ ریونیو کے انفارمیشن کمشنر کے یہاں سماعت ہوگی ۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر تین مئی کو انفارمیشن کمشنر نے انہیں مساجد کی غیر قانونی تعمیر کے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں ، تو وہ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے جبکہ ہندو تنظیموں نے انتخابی سال میں حکومت سے دو دوہاتھ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔واضح رہے کہ مندروں سے سرکاری کنٹرول کو ختم کرنے کی مانگ کو لے کر مدھیہ پردیش سنت سماج ایک ہفتے پہلے ہی حکومت کو انتباہ دے چکا ہے ۔اب حکومت انتخابی سال میں کسے خوش کرتی ہے ، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔