ہماری پارٹی کا نام اتحاد المسلمین ہے انتشارالمسلمین نہیں

ہماری پارٹی کا نام اتحاد المسلمین ہے انتشارالمسلمین نہیں

ممبئی۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قائد اور شعلہ بیاں مقرراکبرالدین اویسی نے آج بیگن واڑی گوونڈی میں پرہجوم مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا اکبرالدین اویسی اس وقت تک مطمئن نہیں ہوگا جب تک قوم کا ہر فرد چین سے نہیں سوئے گا۔ انہوں نے کہاکہ مجلس اتحاد المسلمین کام کرتی ہے اور عوام کے دلوں کو فتح کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجلس اتحادالمسلمین صرف ایوان کی کرسی پر بیٹھتی نہیں ہے بلکہ حکومت وقت کی آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کر قوم کے مسئلے کو حل کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ آج تلنگانہ اور حیدرآباد میںمجلس اتحادالمسلمین مسلمانوںکے کئی مسائل حل کروانے میں کامیاب ہوئی ہے اور سرکاری سطح پر بے شمار کام کیے ہیں، اور آج اگر میں مجلس اتحادالمسلمین کے کامو ں کو ساری رات بیان کروں تو بھی مجلس اتحادالمسلمین کی خدمات ختم نہیں ہوگی۔

اکبرالدین اویسی نے تلنگانہ اور حیدرآباد میں تعلیمی سطح پر مجلس اتحادالمسلمین کے کامو ںکو ایک ایک کرکے گوش گزار کیا۔ انہوں نے اپنی ناراضگی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ میری قوم کو تعلیم اور ملازمت میں موقع دیا جائے۔ میں کوئی غیر دستوری مطالبہ نہیں کرتا بلکہ دستور نے جو حق دیا ہے ان کا مطالبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے گوونڈی چیتا کیمپ جیسے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے بات کی اور مسلمانوں سے متحد ہوکر مجلس کو کامیاب کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہاکہ مجلس اگر آج نہیں جیتی تو کل جیت جائے گی لیکن اپنے مشن سے نہیں ہٹے گی ۔ مسلمانوں کو اس کے حقوق دلانے کی بات کرتی رہے گی اور جب جیت جائے گی اسکے حقوق دلانے کی پوری کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ یہاں اس گوونڈی میں ہزاروں بچے معذور ہیں لیکن یہاں ان معذورین کی مدد کے لئے کوئی کام نہیں ہوتا، مجلس ان ۳۵‘فیصد انڈرویٹ معذورین کے لئے کام کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ علاقہ پوری ممبئی کو گوشت سپلائی کرتا ہے لیکن یہی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ جو پوری ممبئی کو گوشت کھلاتا ہے وہیں کے ساٹھ فیصد لوگ دو وقت کا کھانا کھانے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجلس آپ کے ان ہی حقوق کی بات کرتی ہے تو لوگ ہمیں برا کہتے ہیں۔

انہوں نے تمام اشیاء کا فیصد ی تناسب بتاتے ہوئے ان کے بارے میں کہا کہ آٹھ فیصد لوگوں کی قسمت میں انڈا ہے، تین فیصد لوگوں کی قسمت میں مٹن وچکن ہے۔ لیکن یہاں کے عوامی نمائندوں کی قسمت میں کروڑوں اربوں روپئے ہیں لیکن آپ کی قسمت میں کچھ نہیں۔ لوگ مجلس پر الزام عائد کرتے ہیں کہ مجلس نے کیا کیا؟ میں کہناچاہتا ہوں مجلس ایک پالیسی لائی ہے ایک پروگرام لے کر آئی ہے میں ایک بات کہناچاہتاہوں یہاں پر ۸۸ فیصد حاملہ عورتوں میں آئرن اور خون کی کمی ہے۔ جس کی وجہ سے حمل کا اسقاط ہوجاتا ہے۔ انہوں نے یہاں کی غربت پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہاں کے اسی فیصد لوگ بے روزگار ہیں ، کچرے کا انبار ہے۔ ممبئی شہر کا پورا کچرا یہاں لاکر ڈالا جاتا ہے ، آپ سوچتے ہیں یہ کچرا ہے، گندگی کا انبار ہے لیکن یہ ڈمپنگ گرائونڈ دوسروں کے لئے سونےکا انبار ہے۔ اگر ڈمپنگ گرائونڈ یہاں سے منتقل ہوجائے تو دوسروں کی اربوںکی آمدنی بند ہوجائے گی۔ اس کچرے کی وجہ سے گوونڈی کا ا نسان صرف پینتس برس یا اڑتیس برس کی مختصر زندگی ہوجاتی ہے۔ مجلس کو اگر طاقت ملے گی تو ان شاء اللہ مجلس اتحادالمسلمین کچرے کے انبار کو یہاں سے ہٹائے گی اور آگے لے جانے کا جو منصوبہ ہے اسے وہاں منتقل کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ کچرے کے انبار کی جگہ ایک سو اکیس ایکڑ ہے وہاں سے ہم کچرا ہٹا کر وہاں پر باندرہ کرلا کامپلیکس جیسا کامپلیکس بنائیں گے۔ دواخانے، ٹیکنکل کالج اور دیگر رفاعی کام کریں گے جس سے غریب مسلمانوں ، مراٹھوں، ہندوئوں کو دیئے جائیں گے۔اکبرالدین اویسی ایک جنونی ہے دیوانہ ہے اسی لئے آج ممبئی کے عوام کے دلوں کو جیتنے میں کامیاب ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم جیت سکتے ہیں کیوں کہ جب ہم بائیکلہ جیتے ہیں تو گوونڈی بھی جیت سکتے ہیں۔ ہماری پارٹی کا نام اتحاد المسلمین ہے انتشارالمسلمین نہیں۔ ہم کوئی ایسی حرکت نہیں کریں گے جس سے شیوسینا اور بی جے پی جیت جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نہیں چاہتے کہ ملت کے صف میں انتشار ہو بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے زیادہ سے زیادہ بھائی اسمبلی اور ایوان میں جائے لیکن کون بھائی جائے جس کے دل میں اللہ ورسول کی محبت ہو۔ انہوں نے وقف اراضی کو لانے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں ہونے والے فسادات خصوصی طور پر ممبئی فسادات کا بھی تذکرہ کیا اور ان کے مظلومین کو انصاف دلانے کی بات کہیں۔ ان کی جوشیلی تقریر پر بار بار شیر آیا شیر آیا جیسے فلک شگاف نعروں سے پورا مجمع گونج رہا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر ہندوستان زندہ باد ہندوستان زندہ اور تکبیر کے پرجوش نعروں کے ساتھ ختم کی۔