ہند و پاک کے درمیان چلنے والی کاروان امن بس سروس معطل

ہند و پاک کے درمیان چلنے والی کاروان امن بس سروس معطل

 وادی کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر گذشتہ چند دنوں سے جاری کشیدگی کے پیش نظر گرمائی دارالحکومت سری نگر اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی دارالحکومت مظفرآباد کے درمیان چل رہی ہفتہ وار ’کاروان امن بس‘ پیر کو نہیں چلے گی۔ یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہے کہ جب اس بس کو معطل کیا گیا ۔

اس بس کو گذشتہ ہفتے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں منائے جارہے 69 ویں ’یوم تاسیس‘ کے پیش نظرمعطل کیا گیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے اتوار کی صبح یو این آئی کو بتایا ’ہمیں ابھی ایک حکم نامہ موصول ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ پیر کو چلنے والی کاروان امن بس سروس معطل کی گئی ہے‘۔ انہوں نے مزید بتایا ’بس سروس کو معطل کرنے کی کوئی بھی وجہ مذکورہ حکم نامے میں نہیں دی گئی ہے‘۔ تاہم ذرائع نے بتایا کہ اس بس سروس کو ایل او سی پر جاری کشیدگی کے پیش نظر معطل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کشمیر کے کیرن، ٹنگڈار اور مژھل سیکٹروں میں گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران جنگجوؤں کے حملوں اور سرحد پار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجے میں تین فوجی اہلکار ہلاک جبکہ ایک خاتون زخمی ہوگئی ہے۔ فوج نے گذشتہ رات دعویٰ کیا کہ اس نے سرحد پار سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کئی پاکستانی چوکیوں کو تباہ کرکے بڑی تعداد میں پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جو مسافر پیر کے روز اس ہفتہ واری بس سروس کے ذریعے سفر کرنے والے تھے، کو بس کی معطلی کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ وادی میں 8 جولائی سے جاری کشیدگی کے باوجود یہ بس سروس گذشتہ تین ماہ کے دوران 11 اور 18 جولائی کو چھوڑ کر اپنے شیڈول کے مطابق جاری رہی۔ 12 ستمبر کو کاروان امن بس سروس عیدالاضحی کے پیش نظر معطل کی گئی تھی۔

رواں برس کے دوران سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان ’کاروان امن بس‘ مجموعی طور پرسات مرتبہ معطل رہی۔ 14 مارچ کو سرحد کے اُس پار مٹی کے تودے گرآنے ، 4 اپریل کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکی برسی کے موقع پر اور 4 جولائی کو عیدالفطر کے پیش نظر اس بس سروس کو معطل کردیا گیا تھا۔ 11 اور 18 جولائی کو بھی یہ بس وادی کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر معطل کردی گئی تھی۔ کاروان امن بس کا آغاز 7 اپریل 2005 کو ہوا اور تب سے اِس کے ذریعے ہزاروں لوگ آرپار اپنے عزیز واقارب سے ملے ہیں۔