دبئی: ہوائی جہاز میں ہنگامی لینڈنگ کے بعد آتشزدگی

دبئی: ہوائی جہاز میں ہنگامی لینڈنگ کے بعد آتشزدگی

ایمریٹس ایئر لائن کے ایک جہاز میں دبئی ایئر پورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کے بعد آگ لگ گئی۔ حادثے میں تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ رہے تاہم آگ بجھانے والے عملے کا ایک رکن آگ کی لپیٹ میں آ کر ہلاک ہو گیا۔

جہاز میں مسافروں اور عملے کے ارکان سمیت 300 افراد سوار تھے۔

جہاز کی لینڈنگ کے وقت اس کے لینڈنگ گیئر کھلے ہوئے نہیں تھے۔ تصاویر میں جہاز سے سیاہ دھوئیں کے بادل اڑتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایمریٹس ایئر لائن کے چیئرمین احمد بن سعید مخطوم نے ہلاک ہونے والے آگ بجانے کے عملے کے رکن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

یہ پرواز جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ سے دبئی آ رہی تھی۔ حادثے کے بعد ہوائی اڈے پر چند گھنٹے تک پروازیں معطل رہیں۔آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور نہ ہی اب تک واضح ہو سکا ہے کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر کیوں نہیں کھلے۔

ایمریٹس ایئر لائن کے چیئرمین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ لوگوں کو جہاز سے نکالنے کا عمل نہایت پیشہ ورانہ انداز میں کیا گیا اور عملے کے ارکان سب سے آخر میں باہر آئے۔

13 افراد کو معمولی زخم آئے ہیں۔جہاز پر سوار ایک مسافر شیرن مریم شرجی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ ایک خوفناک تجربہ تھا۔ ’جب ہم لینڈ کر رہے تھے تو اچانک کیبن سے دھواں نکلنے لگا۔ لوگ چلانے لگے، ہم بہت مشکل سے اترے، ہمیں ہنگامی سلائیڈز سے نکالا گیا۔ جب ہم رن وے سے نکل رہے تھے تو پورے جہاز کو آگ لگ گئی۔‘

ایمریٹس کے مطابق 282 مسافر اور 18 عملے کے ارکان میں 20 ممالک کے باشندے شامل تھے جن میں زیادہ تر انڈین شہری تھے جبکہ 24 برطانوی، اور 11 متحدہ عرب امارات کے شہری تھے۔

ایئر لائن کے مطابق جہاز کے کپتان اور فرسٹ آفیسر کو سات ہزار گھنٹے کی پرواز کا تجربہ ہے۔

فلائٹ ای کے 521 کیرالہ کے شہر تھروونتھاپورم سے دبئی جا رہی تھی۔

ایمریٹس مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی ایئرلائن ہے اور ان کا حفاظتی ریکارڈ بہترین رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق یہ دنیا کی ساتویں محفوظ ترین فضائی کمپنی ہے۔